خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 398

398 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء خطبات مسرور جلد نهم عرصہ صرف پندرہ دن کا تھا۔آخر میں بھی جب رخصت ہوئی ہیں۔وہاں سے پہلے پاکستان واپس چلی گئی تھیں تو دعاؤں کے ساتھ رخصت ہوئیں۔ڈاکٹر فرخ یہ بھی میر محمود احمد صاحب کے بیٹے ہیں ( چھوٹے بیٹے) انہوں نے مجھے لکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی وفات پر جب میں گیا اور میں نے تعزیت کی تو نصیحت کی اور دعا کی تحریک کی، ساتھ یہ فرمایا کہ یہ دعا کرو کہ جو بھی نیا خلیفہ ہے اُس کی بیعت کی توفیق ملے اور جذباتی وابستگی اور تعلق بھی اُس سے پیدا ہو جائے۔پس اُن کا تعلق خلافت سے تھا جس کے لئے دعا بھی کی اور نصیحت بھی کی۔اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔واقعات تو بہت ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔آخر میں ایک بات میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔1913ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے الفضل جاری کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت اُم ناصر صاحبہ نے ابتدائی سرمایہ کے طور پر اپنا کچھ زیور پیش کیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے دل میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تحریک کی تھی۔انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنویں میں پھینک دینا اور خصوصاً اُس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو ( یہ بھی ایک عاجزی تھی حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی) جو اس زمانہ میں شاید سب سے بڑا مذموم تھا، ( آپ نے ) اپنے دو زیور مجھے دے دیئے کہ میں اُن کو فروخت کر کے اخبار جاری کر دوں، اُن میں سے ایک تو ان کے اپنے کڑے تھے ( سونے کے)، اور دوسرے اُن کے بچپن کے کڑے سونے کے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلمها اللہ تعالیٰ کے استعمال کے لئے رکھے ہوئے تھے ، میں زیورات کو لے کر اُسی وقت لاہور گیا اور پونے پانچ سو کے وہ دونوں کڑے فروخت ہوئے “ اور اُس سے پھر یہ اخبار الفضل جاری ہوا۔(الفضل نمبر 1 جلد 12 مورخہ 4 جولائی 1924ء صفحہ 4 کالم 3) قارئین الفضل حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس پیاری بیٹی اور میری والدہ کو بھی الفضل پڑھتے ہوئے دعاؤں میں یادر کھیں کہ الفضل کے اجراء میں گو بیشک شعور رکھتے ہوئے تو نہیں لیکن اپنے ماں باپ کے ساتھ آپ نے بھی حصہ لیا، اور یہ الفضل جو ہے آج انٹر نیشنل الفضل کی صورت میں بھی جاری ہے۔اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور اُن کی دعائیں ہمیشہ ہمیں پہنچتی رہیں۔ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ اُن کا نماز جنازہ بھی غائب پڑھاؤں گا۔اس کے علاوہ اور جنازے بھی ہیں ایک جنازہ چوہدری نذیر احمد صاحب کا ہو گا، یہ گورنمنٹ سروس میں رہے اور 1981ء میں وہاں سے جب ریٹائر ہوئے تو انہوں نے وقف کیا، حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے انہیں نائب ناظر زراعت اور نائب وکیل الزراعت لگایا۔اور ایک لمبا عرصہ 2003ء تک اس خدمت پر وہ مامور رہے، بڑی اچھی طرح خدمت کرتے رہے، بڑی