خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 391

391 خطبات مسرور جلد نهم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء وجہ سے یا ٹرینگ نہ ہونے کی وجہ سے جب اُن سب کے گھوڑے پر کے ہیں تو انہوں نے جو پرانے صحابہ تھے اُن کی صفوں میں بھی بے ترتیبی پیدا کر دی، کھلبلی مچادی، جس کی وجہ سے اُن کے گھوڑے بھی بدکنے لگے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف دس بارہ صحابہ رہ گئے۔تب صحابہ کو بلکہ خاص طور پر انصار کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو کہہ کر یہ اعلان کروایا کہ انصار ! خد اکار سول تمہیں بلاتا ہے۔اُس وقت جب ان سب کے گھوڑے بدک رہے تھے اور باوجود موڑنے کے نہیں مڑ رہے تھے ، صحابہ کہتے ہیں کہ ہم اتنی زور سے اُس کی لگا میں کھینچتے تھے کہ ان کی گردنیں مڑ کے پیچھے لگ جاتی تھیں لیکن اُس کے باوجو د جب ڈھیلی چھوڑو پھر گھوڑے واپسی کی طرف دوڑتے تھے تو اُس وقت جب یہ اعلان ہوا کہ خدا کار سول تمہیں بلاتا ہے تو صحابہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایسا لگا جیسے ہمارے جسموں میں ایک بجلی سی دوڑ گئی ہے۔سواریوں کو قابو کرنے کی کوشش کی تو پھر بھی نہیں مڑتی تھیں، کسی کی سواری مڑ سکی تو سواری پر چڑھ کر ورنہ پھر اس آواز کے بعد اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کی گرد نہیں اُڑاتے ہوئے ، ان کی گردنیں کاٹ کر اور وہیں اُن کو گرا کے پیدل ہی چند منٹ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر جمع ہو گئے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اُس آواز سے زیادہ شان کے ساتھ ، اُس آواز سے زیادہ یقین کے ساتھ ، اُس آواز سے زیادہ اعتماد کے ساتھ ، اُس آواز سے زیادہ محبت کے ساتھ ، اُس آواز سے زیادہ اُمید کے ساتھ خدا کے رسول صلی ا ہم نے تیرہ سو سال پہلے کہا تھا کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِّنْ أَبْنَاءِ الفارس وہ وقت جب میری اُمت پر آئے گا کہ جب اسلام مٹ جائے گا، جب دجال کا فتنہ روئے زمین پر غالب آجائے گا، جب ایمان مفقود ہو جائے گا، جب رات کو انسان مومن ہو گا اور صبح کا فر، صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر، اُس وقت میں امید کرتا ہوں کہ اہل فارس میں سے کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں گے جو پھر اس آواز پر جو میری طرف سے بلند ہوئی ہے لبیک کہیں گے۔پھر ایمان کو ثریا سے واپس لائیں گے۔ان الفاظ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی رَجُلٌ نہیں کہا بلکہ رجال کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اشاعت اسلام کی ذمہ داری رجل فارس پر ہی ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ اس کی اولاد پر بھی وہی ذمہ داری عائد ہو گی اور اُن سے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُسی چیز کی اُمید رکھتے ہیں جس کی امید آپ نے رجل فارس سے کی۔یہ وہ آواز ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نا امیدی کی تصویر کھینچنے کے بعد جس سے صحابہ کے رنگ اُڑ گئے اور اُن کے دل دھڑ کنے لگ گئے تھے اُن کے دلوں کو ڈھارس دینے کے لئے بلند کی۔اور یہ وہ امید و اعتماد ہے جس کا آپ نے ابنائے فارس کے متعلق اظہار کیا “۔فرماتے ہیں کہ ”میں آج اس امانت اور ذمہ داری کو ادا کرتا ہوں اور آج ان تمام افراد کو جو رجل فارس کی اولاد میں سے ہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام پہنچاتا ہوں۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کی تباہی کے وقت اُمید ظاہر کی ہے کہ لَنَالَهُ رِجَالٌ مِّنْ فَارَس اور یقین ظاہر کیا ہے کہ اس فارسی النسل موعود کی اولاد دنیا کی لالچوں، حرصوں اور ترقیات کو چھوڑ کر صرف ایک کام کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے گی اور وہ کام