خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 390 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 390

خطبات مسرور جلد نهم 390 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011 ء بھی راضی معلوم ہوتا ہے اور گو ابھی الہامی طور پر اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔۔۔مگر محمود کی رضامندی ایک دلیل اس بات پر ہے کہ یہ امر غالباً واللہ اعلم جنابِ الہی کی رضامندی کے موافق انشاء اللہ ہو گا۔“ تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ 45 مطبوعہ ربوہ) یقینا یہ رشتہ جناب الہی کی رضامندی سے تھا کہ آپ کے سب سے بڑے بیٹے حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کی رداء پہنائی۔میری والدہ کا نکاح 2 جولائی 1934ء کو میرے والد حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے ساتھ ہوا جو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے بیٹے تھے اور ساتھ ہی حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا بھی نکاح ہوا۔اس موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسجد اقصیٰ قادیان میں ایک لمباخطبہ ارشاد فرمایا۔ان ہر دو نکاح میں پہلا نکاح حضرت مرزا ناصر احمد خلیفتہ المسیح الثالث کا اور دوسرا جیسا کہ میں نے کہا میرے والد ، والدہ کا تھا۔یہاں اُس خطبہ کے بعض حصے خاص طور پر بیان کر دیتا ہوں۔عام طور پر تو پوری جماعت کے لئے ہے ، لیکن خاص طور پر خاندان حضرت مسیح موعود کے افراد کے لئے کہ اس کو سُن کر ان کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور میری والدہ جو ہمیشہ اپنوں اور غیروں کی تربیت کے لئے کوشاں رہیں، اُن کے اعلیٰ معیار کے لئے کوشاں رہیں اُن کو بھی اس کا ثواب مل جائے کہ اُن کی وفات کی وجہ سے میری اس طرف توجہ پیدا ہوئی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ : ” وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة: 4) سے مراد ہے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز کامل۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ اگر اُس وقت ایسا شخص مبعوث ہو چکا ہو جسے میر اوجود کہا جاسکے تو وہ اس دجال کا مقابلہ کرے گاور نہ سوائے اس کے اور کوئی صورت نہ ہو گی کہ مسلمان اس دجال سے لڑ کر مر جائیں۔اس عظیم الشان فتنہ کے مقابلہ کے لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی کی ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ اپیل کی ہے کہ میں یہ امید کرتا ہوں کہ جب یہ فتنہ عظیم پیدا ہو گا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں گے جو تمام قسم کے خطرات اور مصائب کو برداشت کرتے ہوئے پھر دنیا میں ایمان قائم کر دیں گے۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : میں سمجھتا ہوں یہ خالی پیشگوئی ہی نہیں بلکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک آرزو ہے۔ایک خواہش ہے۔ایک امید ہے۔اور یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ خدا کا رسول ابنائے فارس سے کیا چاہتا ہے؟ اس فتنہ سے خطرات کے لحاظ سے بہت کم، نتائج کے لحاظ سے بہت کم، زمانہ اور اثرات کے لحاظ سے بہت کم، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی فتنہ اُٹھا۔صحابہ نے اُس وقت جو نمونہ دکھا یا وہ تاریخ کی کتابوں میں آج تک لکھا ہے“۔( اور پھر آپ نے اُس کی تفصیل بیان فرمائی کہ صحابہ نے کیا نمونہ دکھایا، کس طرح اُنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔پھر حضرت مصلح موعود آگے جا کر اس جنگ کا ذکر کرتے ہیں جو فتح مکہ کے بعد ہوئی اور جس میں نو مسلم بھی شامل ہوئے تھے اور اُن کو اپنی تعداد پر بڑاز عم اور بھروسہ تھا، اُس پر تکبر کر رہے تھے لیکن کفار کے تیروں کی جب بارش پڑی ہے تو اس کے آگے ٹھہر نہ سکے اور اُن نو مبائعین کی کمزوری ایمان کی