خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 381

381 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مبارک جماعت کے فعال کارکن اور خدام بنائے رکھے۔لکھتی ہیں جس طرح ہمارے پاکستانی بھائی بے لوث خدمت کرتے ہیں اور انکساری اور صبر اور استقامت کے زیور سے آراستہ ہیں، دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہم عربوں کو بھی انہی اخلاق کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ بھی اُن کی عاجزی اور کسر نفسی ہے۔عرب بھی جہاں جہاں بھی اُن کے سپرد کام کئے گئے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی محنت سے اور عاجزی سے خدمات بجالا رہے ہیں۔پھر مصر سے ایک صاحب لکھتے ہیں جو جلسہ میں شامل ہوئے تھے کہ میں اور میرے تمام ساتھی جلسہ سے بہت متاثر ہوئے۔یہ عبد السلام صاحب ہیں۔لکھتے ہیں کہ آپ کے آخری دن کے خطاب نے عزم صمیم اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی روح پیدا کی اور ختم نبوت پر ہمارا ایمان پختہ کیا۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ تمام امانتوں اور ذمہ داریوں کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے۔اکرام ضیف اور مہمان نوازی کی عجیب شان تھی۔یوں لگتا تھا جیسے اس تمام مقام پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات جلوہ گر ہیں۔ہر طرف اخلاق عالیہ نظر آتے تھے۔جس دن سے جلسہ میں حاضر ہوا ہر طرف دین اسلام کی اور قرآن کریم اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی تجلیات نظر آرہی تھیں۔اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی معیت محسوس ہوتی تھی جو سارے کام از خود سنوار رہے تھے۔اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو بہتوں کے لئے ہدایت کا موجب بنائے۔ا پھر مصر کی ایک نواحمدی خاتون لکھتی ہیں کہ قبل ازیں ایم۔ٹی۔ابے پر جلسے کے بارہ میں سنا کرتی تھی۔پھر وہ دن آیا جب میں خدا کے فضل سے حدیقہ المہدی پہنچ گئی جہاں خود خلیفۃ المسیح موجود تھے۔عالمی بیعت کے روز ہم میاں بیوی بیعت میں شامل نہ ہو سکے کیونکہ میرے خاوند کو اس احاطے میں جانے کے لئے کارڈ نہ دیا گیا اور مجھے چھوٹے بچوں کی وجہ سے بچوں والی عورتوں کے لئے مخصوص خیمے میں جانا پڑا۔لیکن وہاں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے باہر کھڑی ہو کر ٹی وی پر بیعت کا نظارہ دیکھا۔اس دوران جماعت کے لئے ( مجھے لکھ رہی ہیں کہ) آپ کے لئے دعائیں کرتی رہی۔اُس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں نے جماعت سے نظام کی اطاعت کا سبق سیکھا ہے۔چنانچہ ایک لفظ بھی زبان پر لائے بغیر اطاعت نظام کرتی ہوئی خاموشی سے بچوں کو لے کر باہر چلی گئی۔جہاں تک نظم وضبط کا تعلق ہے تو اس کا انتظام کرنے والوں کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔آپ نے ہمیں مہمان نوازی اور اُن کے استقبال کے طریق سکھائے۔ہر کام کرنے والے کے چہرے کی مسکراہٹ سے اُن کے اخلاص کا پتہ چلتا تھا۔گویا یہ مہمان اُن کے گھر کے افراد ہوں۔کہتی ہیں کہ میرے بچے بالعموم اپنے والد کے ساتھ جلسہ گاہ میں ہوتے تھے جو کبھی سو جاتے تھے اور پھر نعروں کی آواز سُن کر جاگ جاتے اور بے اختیار نعرے لگانے لگتے۔دعا کریں کہ ہمیں ہر سال جلسہ میں شرکت کی توفیق عطا ہو۔کیونکہ اب ہم نے ایک دفعہ جلسہ دیکھ لیا ہے تو اسے میں (Miss) نہیں کر سکتے۔پھر مراکش کے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد عرض ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ وقت جلد لائے جب اگلے جلسے مکتہ المکرمہ میں منعقد ہوں اور ہم رُکن و مقام کے مابین عالمی بیعت کے نظارے دیکھیں۔تو یہ چند تاثرات ہیں جو چند عربوں کے ہیں، باقیوں کے تو تحریر میں نہیں آئے۔اس مرتبہ امریکہ کے کافی لوگ یہاں آئے ہوئے تھے جو جلسہ میں شامل ہوئے۔تیس سے زائد تو مقامی امریکن احمدی شامل ہوئے تھے۔