خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 379
379 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم جذبات پہنچا دیتا ہوں۔اسی طرح باہر سے خطوط کے ذریعہ فون کے ذریعہ سے جو پیغامات آرہے ہیں وہ بھی اس سارے نظام سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ہمیشہ ہی ہوتے ہیں اور ہر دفعہ نئے تبصرے ہوتے ہیں اور ایم۔ٹی۔اے کے بھی شکر گزار ہیں۔اُن کو بھی اُنہوں نے پیغام دیا ہے۔جو پیغامات فوری طور پر تیار ہو سکے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، یہ زیادہ عرب دنیا کے ہی ہیں۔ایک غیر احمدی خاتون یمن سے یہاں جلسہ پر آئی تھیں۔وہ کہتی ہیں کہ میں اس جلسہ میں شمولیت سے بہت خوش ہوں اور بہت سے احمدی بہن بھائیوں سے ملاقات کر کے بہت خوش ہوں جنہوں نے احمدیت سے متعلق میرے ذہن سے بہت سے غلط خیالات کی اصلاح کی اور احمدیت کی صحیح اور واضح تصویر پیش کی۔آپ کی غیر معمولی مہمان نوازی پر شکر واجب ہے۔ہر طرح سے مہمانوں کے آرام و آسائش کا خیال رکھنے کی بھر پور کوشش کی گئی۔پھر ایک نو مبائع خالد صاحب ہیں، انہوں نے عکرمہ نجمی صاحب کو بتایا۔( انہوں نے اس سال 11 مئی کو بیعت کی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے ٹی۔وی پر جلسہ کی ساری کارروائی دیکھی ہے۔ماشاء اللہ جلسہ کے انتظامات بہت اعلیٰ تھے اور کارکنان کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوئی۔ٹی وی پر دیکھنے والے بھی محسوس کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ ہاشم صاحب نے یہاں سے روانگی سے دو دن قبل مجھے بتایا۔اگر کچھ عرصہ قبل بتاتے تو میں بھی ضرور اس مبارک جلسہ میں شامل ہو تا۔اگلے سال میں ضرور شامل ہوں گا۔پھر کہا بیر کے ایک صاحب ہیں وہ لکھتے ہیں کہ نہایت فخر اور سرور کے ساتھ ہم نے جلسہ سالانہ برطانیہ کے جملہ پروگرام دیکھے۔جلسے کا نظام اور تیس ہزار کے قریب شاملین جلسہ کی بڑے سکون کے ساتھ اور بغیر کسی اکتاہٹ کے خدمت اُس شہد کے چھتے کا سماں پیش کر رہی تھی جس کا کام صرف صاف شہد فراہم کرنا ہوتا ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں نے ایم۔ٹی۔اے العربیہ کے ذریعے عرب دنیا کے لئے جلسہ کے جملہ پروگراموں کو نشر کرنے کیلئے جو کوششیں کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔پھر میری آخری تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ خطاب دلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت قائم کرنے والا اور انسانی ضمیر کو جگانے والا اور روح کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آستانہ پر جھکانے والا تھا۔اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کا صرف اور صرف جماعت احمد یہ پرچار کر رہی ہے۔پھر اسامہ جلس مالدووا سے لکھتے ہیں کہ عالمی بیعت کے وقت جب تمام خدام رسول صلی اللہ علیہ وسلم خلیفہ وقت کے ہاتھ کے ساتھ ہاتھوں کی زنجیر بناتے ہوئے عہد بیعت دہراتے جارہے تھے اُس وقت اس منظر اور ان کلمات نے دل میں کچھ ایسا جوش پیدا کر دیا کہ ہم بے اختیار ہو کر اشک آلود آنکھوں کے ساتھ بیعت کے الفاظ دہرانے لگے۔کاش میں بھی اس مبارک موقع پر وہاں ہوتا اور ان روحانی و آسمانی برکات سے حصہ پاتا۔پس اے جلسہ میں شرکت کرنے والے بھائیو! آپ سب کو تجدید عہد بیعت اور اس جلسے میں شمولیت مبارک ہو۔پھر لکھتے ہیں کہ ایم۔ٹی۔اے کا بہت بہت شکریہ جس کے ذریعے اس جلسے میں شامل نہ ہونے والوں کو