خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 376

376 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم خلیفہ وقت اور نظام جماعت کی طرف سے کوشش کی گئی ہے اور ہوتی ہے اس کو ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنانا ہے اور جب اس طرف بھر پور کوشش ہو گی تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے حقیقی شکر گزار بن سکیں گے۔اور جلسوں کے دائمی فیض سے حصہ پانے والے ہوں گے۔تبھی ہم اس شکر گزاری کے نتیجے میں انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے مزید فضلوں کو حاصل کرنے والے بن سکیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہے کہ لين شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم: 8) کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں مزید تمہیں بڑھاؤں گا۔پس یہاں اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے یا واضح طور پر اس بنیادی اصول کی طرف ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ تمہاری ترقی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے صحیح استعمال سے وابستہ ہے۔ورنہ اگر ان نعمتوں کا اُس طرح شکر ادا نہیں کر رہے جو اُس کے ادا کرنے کا حق ہے تو یہ صرف منہ کی باتیں ہیں، زبانی جمع خرچ ہے کہ ہم نے اللہ کے فضل سے جلسہ کو دیکھا اور خوب فائدہ اُٹھایا۔حقیقی فائدہ اور شکر تبھی ہو گا جب ہم اس جلسے کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنالیں گے۔جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتی۔ہر روز میں تو جب اپنی ڈاک دیکھتا ہوں تو جماعتی ترقی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے دیکھتا ہوں۔پھر دوروں اور جلسوں پر جہاں بھی شامل ہوں وہاں یہ عجیب نظارے نظر آتے ہیں۔پس جماعت احمدیہ کا من حیث الجماعت تو لمحہ لمحہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھتے ہوئے گزرتا ہے اور ہم اُس پر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری بھی کرتے ہیں۔لیکن ہر احمدی پر انفرادی طور پر بھی اس شکر گزاری کا اظہار ہونا چاہئے۔ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر گزار ہونا چاہئے اور اس کا بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی تلاش کے لئے جد و جہد ہے، کوشش ہے۔میں جماعتی فضلوں کی بات کر رہا تھا۔گزشتہ مہینے میں جرمنی کے جلسہ میں شمولیت کے لئے گیا۔وہاں جلسے کے پروگراموں کے علاوہ اور پروگرام بھی تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بھی بڑی کامیابی سے ہوئے۔اُن کی شکر گزاری کا ذکر چل رہا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کی ایسی بارش برسائی کہ یو کے کا یہ جلسہ سالانہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش دکھاتا ہوا آیا اور چلا گیا۔پس وہ احمدی جو اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر میری ترجیحات بدل گئی ہیں، میری ذات کی خوشیاں جماعت اور اللہ تعالیٰ کی رضا سے اب وابستہ ہو گئی ہیں، وہ ہر وقت سجدہ شکر بجالاتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنے وعدے پورے فرما رہا ہے اور کیسے کیسے انعامات سے ہمیں نواز رہا ہے۔ہماری روحانی تربیت و ترقی کے بھی مواقع مہیا فرما رہا ہے۔ہماری اخلاقی تربیت اور ترقی کے بھی مواقع مہیا فرما رہا ہے۔ہماری عبادات کے معیاروں کی بہتری اور ترقی کے بھی مواقع و قتافوقتاً مہیا فرما تارہتا ہے۔اور پھر اب ہماری روحانی اور اخلاقی ترقی کے لئے چند دن بعد ایک اور موقع مہیا فرمانے لگا ہے جو رمضان المبارک کی صورت میں آئے گا انشاء اللہ۔پس ہماری شکر گزاری اگر اپنی عملی حالتوں کی بہتری کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مواقع مہیا فرمانے اور بھر پور فائدہ اُٹھانے پر ہوگی تو پھر فضلوں کی بارش بھی پہلے سے بڑھ کر ہم اپنے پر برستادیکھیں گے۔انشاء اللہ۔