خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 377

خطبات مسرور جلد نهم 377 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2011ء پس اس جلسہ کی برکات کو رمضان کی برکات میں داخل کرتے ہوئے رمضان کے روحانی ماحول سے بھی بھر پور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اپنے اندر جو پاک تبدیلی ہم نے محسوس کی ہے اُسے مزید صیقل کرنے کی ہم رمضان میں کوشش کریں گے تو تبھی ہم جلسہ کے کامیاب انعقاد پر اللہ تعالیٰ کے حقیقی شکر گزار بن سکیں گے۔پس جلسے پر ہمیں جو انفرادی اور اجتماعی عبادتیں کرنے کی توفیق ملی اور مجھے بتانے والے بتاتے ہیں کہ خاص طور پر نوجوانوں اور بچوں کی کافی تعداد اس دفعہ تہجد کے لئے ، جو جماعتی تہجد ہوتی تھی، مار کی میں آتے تھے۔اور تہجد پڑھنے والے بچوں کی یہ تعداد گزشتہ سالوں کی نسبت پہلے سے بہت زیادہ تھی۔ایک باپ مجھے کہنے لگا کہ میرا چودہ پندرہ سال کا جو لڑکا ہے پہلے نماز کے لئے بھی مشکل سے جاگتا تھا اب یہاں تین دنوں میں ایک آواز پر تہجد کے لئے اُٹھ بیٹھتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہم تبھی مستقل حاصل کر سکتے ہیں کہ ان تبدیلیوں کو زندگی کا حصہ بنانے کی ہر بڑا، بچہ ، مرد، عورت کو شش کرے۔خوش قسمتی سے اللہ تعالیٰ ایک اور روحانی ماحول ہمیں مہیا فرمانے لگا ہے جو چند دنوں بعد آنے والا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا، رمضان کا مہینہ انشاء اللہ شروع ہونے والا ہے ، اُس سے بھی بھر پور فائدہ اُٹھائیں تو تب ہی ہماری زندگیوں میں یہ نہ ختم ہونے والا شکر گزاری کا مضمون جاری رہے گا۔اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ لازید نکھ سے ہم فیض پاتے ، فیض یاب ہوتے چلے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔جیسا کہ میرا طریق ہے کہ جلسہ کے بعد کے ایک خطبہ میں جلسہ کے حوالے سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعاموں کا ذ کر چلتا ہے لیکن کسی فخر کے رنگ میں نہیں، انتظامیہ یا کارکنان اپنی کو ششوں پر کامیابی کا ذکر نہیں کرتے ، یا اُن کا ذکر نہیں ہو تا بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونے کے لئے یہ ذکر کیا جاتا ہے۔ایک دوسرے کا شکر گزار ہونے کے لئے یہ ذکر چلتا ہے کہ بندے کا شکر کرنا بھی ضروری ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو بندے کا شکر نہیں کر تاوہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا“۔ا (سنن ترمذى كتاب البر والصلة باب ما جاء في الشكر لمن احسن اليك حديث نمبر 1954) پس اس حوالے سے شکر گزاری کا یہ مضمون بیان ہوتا ہے اور پھر جو واقعات سامنے آتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور یقین مزید بڑھتا ہے۔بچوں اور نوجوانوں کی تہجد کی طرف توجہ کا میں نے ذکر کیا ہے اس پر والدین کو خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اُس نے ہمارے بچوں کی اس طرف توجہ پیدا کر وائی اور اس کے لئے حقیقی شکر گزاری یہ ہے کہ والدین خود بھی اپنے نوافل کو پہلے سے زیادہ احسن رنگ میں ادا کرنے کی کوشش کریں۔جو نہیں کرتے وہ اس طرف توجہ کریں تاکہ بچوں کے لئے نمونہ بنیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے جلسہ کے آخری دن بتایا تھا، کہ اللہ تعالیٰ نے اس جلسہ میں، چھیانوے ممالک کو ، اُن کے افراد کو، احمدیوں کو نمائندگی کی توفیق عطا فرمائی۔ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تعداد بڑھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الفاظ کو دیکھ کر مختلف قوموں کا یقین بڑھتا اور شکر گزاری کے جذبات پید اہوتے ہیں جو آپ نے فرمایا کہ ”اس کے لئے قو میں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی“۔