خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 32

خطبات مسرور جلد نهم 32 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء پھر آپ آنحضرت صلی علم کی ہمیشہ ہمیش کی زندگی کی تعریف کرتے ہوئے کہ آپ کی یہ زندگی کس طرح کی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: یہ عجیب بات ہے کہ دنیا ختم ہونے کو ہے مگر اس کامل نبی کے فیضان کی شعاعیں اب تک ختم نہیں ہوئیں۔اگر خدا کا کلام قرآن شریف مانع نہ ہوتا“ (یعنی اس کی وجہ سے کوئی روک نہ ہوتی ) ”تو فقط یہی نبی تھا جس کی نسبت ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ اب تک مع جسم عنصری زندہ آسمان پر موجود ہے کیونکہ ہم اس کی زندگی کے صریح آثار پاتے ہیں۔اس کا دین زندہ ہے۔اس کی پیروی کرنے والا زندہ ہو جاتا ہے۔اور اس کے ذریعہ سے زندہ خدامل جاتا ہے۔ہم نے دیکھ لیا ہے کہ خدا اس سے اور اُس کے دین سے اور اس کے محب سے محبت کرتا ہے۔اور یادر ہے کہ در حقیقت وہ زندہ ہے اور آسمان پر سب سے اُس کا مقام برتر ہے لیکن یہ جسم عصری جو فانی ہے یہ نہیں ہے بلکہ ایک اور نورانی جسم کے ساتھ جو لازوال ہے اپنے خدائے مقتدر کے پاس آسمان پر ہے“۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22۔صفحہ 118-119 حاشیہ) پس اگر کوئی انصاف کی نظر سے دیکھے تو یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت کے مقام کو پہچانا ہے ، کوئی بھی نہیں پہچان سکتا۔اور آپ ہی وہ مردِ مجاہد تھے جنہوں نے آنحضرت صلی للی کم کی ذات پر حملے کی صورت میں سب سے پہلے مؤثر آواز بلند کی۔1897ء میں جب پادریوں کی طرف سے مشن پریس گوجرانوالہ میں اسلام کے رڈ میں ایک کتاب شائع ہوئی اور اس میں آنحضرت صلی علیم کی ذات کے بارہ میں انتہائی دریدہ دہنی کی گئی اور مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی اور پھر مسلمانوں کا دل دکھانے کے لئے ایک ہزار کا پی اس کتاب کی علماء اور مسلمان لیڈروں کو مفت تقسیم کی گئی اور ایک کاپی اس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی بھیجی گئی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اشتہار دیا اور حکومت کو توجہ دلائی کہ گو قانون بے شک یہ کہہ دے کہ تمہیں بھی اجازت ہے اور یہ کتاب لکھنا تو ہین اور بہتک کے زمرہ میں نہیں آتا، تم لوگ بھی لکھ سکتے ہو۔لیکن فرمایا کہ مسلمان تمام انبیاء پر ایمان لاتے ہیں اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام یا کسی اور نبی کے بارے میں اس طرح کی لغویات نہیں لکھ سکتے ، بیہودہ گوئی نہیں کر سکتے۔آپ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ گورنمنٹ ایسا قانون بنائے کہ جس میں ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور دوسرے فریق پر گند اچھالنے کی اجازت نہ ہو۔اور یہی طریق کار ہے جس سے امن امان اور بھائی چارہ قائم ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ اور کوئی بہترین طریق نہیں ہے۔آپ کو آنحضرت صلی ایم کے مقام و مرتبہ کی حفاظت اور مخالفین کے آپ کی ذات پر اور اسلام پر حملے کے خلاف ایک جوش تھا، اور ہر موقع پر آپ اس کے دفاع کے لئے کھڑے ہوتے تھے۔درد سے مسلمانوں کو بھی سمجھایا کہ کس طرح ہم دشمنوں کے حملے کو پسپا کر سکتے ہیں ؟ کیا طریق کار تم مسلمانوں کو بھی اختیار کرنا چاہئے۔قطع نظر اس کے کہ تم کس فرقہ سے