خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 33

خطبات مسرور جلد نهم 33 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء تعلق رکھتے ہو۔آنحضرت صلی اللہ یوم کی ذات کی حفاظت ایک ایسا اہم کام ہے جس کے لئے تمام مسلمانوں کو اکٹھے ہو جانا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”ہمارے مخالفوں نے “ (یعنی اسلام کے مخالفوں نے ہزاروں اعتراض کر کے یہ ارادہ کیا ہے کہ اسلام کے نورانی اور خوبصورت چہرہ کو بد شکل اور مکر وہ ظاہر کریں۔ایسا ہی ہماری تمام کوششیں اسی کام کے لئے ہونی چاہئیں کہ اس پاک دین کی کمال درجہ کی خوبصورتی اور بے عیب اور معصوم ہونا بپایہ ثبوت پہنچادیں۔یقینا سمجھو کہ گمراہوں کی حقیقی اور واقعی خیر خواہی اسی میں ہے کہ ہم جھوٹے اور ذلیل اعتراضات کی غلطیوں پر ان کو مطلع کریں اور اُن کو دکھلاویں کہ اسلام کا چہرہ کیسا نورانی، کیسا مبارک اور کیسا ہر ایک داغ سے پاک ہے ؟ ہمارا کام جو ہمیں ضرور ہی کرنا چاہئے ، وہ یہی ہے کہ یہ دجل اور افترا جس کے ذریعہ سے قوموں کو اسلام کی نسبت بد ظن کیا گیا ہے ، اس کو جڑ سے اکھاڑ دیں۔یہ کام سب کاموں پر مقدم ہے۔جس میں اگر ہم غفلت کریں تو خدا اور رسول کے گنہگار ہوں گے۔سچی ہمدردی اسلام کی اور سچی محبت رسولِ کریم (صلی ان کی اسی میں ہے کہ ہم ان افتراؤں سے اپنے مولیٰ و سید رسول اللہ صلی علی کم اور اسلام کا دامن پاک ثابت کر کے دکھلائیں۔اور وسواسی دلوں کو یہ ایک نیا موقع وسوسہ کانہ دیں کہ گویا ہم محکم سے حملہ کرنے والوں کو روکنا چاہتے ہیں اور جواب لکھنے سے کنارہ کش ہیں۔ہر ایک شخص اپنی رائے اور خیال کی پیروی کرتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ہمارے دل کو اسی امر کے لئے کھولا ہے کہ اس وقت اور اس زمانے میں اسلام کی حقیقی تائید اسی میں ہے کہ ہم اس تخم بدنامی کو جو بویا گیا ہے اور ان اعتراضات کو جو یورپ اور ایشیا میں پھیلائے گئے ہیں جڑ سے اکھاڑ کر اسلامی خوبیوں کے انوار اور برکات اس قدر غیر قوموں کو دکھلاویں کہ اُن کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔اور اُن کے دل ان مفتریوں سے بیزار ہو جائیں جنہوں نے دھوکہ دے کر ایسے مز خرفات شائع کئے ہیں (یعنی جھوٹی باتیں شائع کی ہیں)۔”اور ہمیں اُن لوگوں کے خیالات پر نہایت افسوس ہے جو باوجودیکہ وہ دیکھتے ہیں کہ کس قدر زہر یلے اعتراضات پھیلائے جاتے اور عوام کو دھو کہ دیا جاتا ہے، پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ ان اعتراضات کے رڈ کرنے کی کچھ بھی ضرورت نہیں، صرف مقدمات اٹھانا اور گورنمنٹ میں میموریل بھیجنا کافی ہے“۔البلاغ، فریاد درد۔روحانی خزائن۔جلد 13 - صفحہ 382-383) صرف اتنی سی بات کافی نہیں کہ کسی کو پکڑ لیا یا مقدمہ بنادیا یا میموریل بھیج دیا بلکہ ایک عملی کوشش اور مسلسل کوشش اور مستقل کو شش کرنے کی ضرورت ہے۔پس یہ ہے اصل درد کہ اٹھو اور الزامات کو ر ڈ کرنے کے لئے مسلسل کوشش کرتے چلے جاؤ اور اپنے عملوں کو حقیقی مسلمان کا عمل بناؤ نہ کہ صرف میموریل بھیج کر یا جلوس نکال کر یا چند دن شور مچا کر پھر بیٹھ جاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت علی ایم کی عزت و ناموس کے لئے کیا جذبات رکھتے تھے ، اس کا اندازہ ان اقتباسات سے ہو سکتا ہے جو میں پیش کرنے لگا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ :