خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 367

خطبات مسرور جلد نهم 367 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2011ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے کے مقاصد میں سے ہمیں بتایا ہے کہ ایک پیار، محبت اور اخوت کارشتہ قائم ہو اور معاشرہ قائم ہو۔(ماخوذ از آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد نمبر 4 صفحہ 352) ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس حسین معاشرے کی بنیاد جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے اللہ اور رسول کی اطاعت اور اولوا الامر کی اطاعت میں ہے۔پس جتنے جتنے اطاعت کے معیار ہوں گے ، یا بلند ہوتے چلے جائیں گے اتنی ہی باتوں کو سننے اور عمل کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔پس ہر آنے والے کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے اطاعت کے معیار بھی بلند کرنے ہیں اور اس کے لئے کوشش بھی کرنی ہے تا کہ ہمارے پاؤں، ہمارے قدم پیچھے کی طرف نہ پھسلنے شروع ہو جائیں، تا کہ ہم جلسے کے فیض سے فیضیاب ہو سکیں۔بعض لوگ یہاں آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں جو دو ہفتے کا یا تین ہفتے کا جماعتی انتظام ہے اُس کے مطابق ہی ہم ٹھہریں گے اور پھر اگر زیادہ ٹھہر نا ہوا تو اپنا انتظام کر لیں گے۔لیکن عملاً بعض لوگ کئی کئی مہینے ٹھہرتے ہیں، انتظامیہ بھی تنگ آجاتی ہے۔پھر اگر جماعتی پروگراموں کی وجہ سے اُن جگہوں کی ضرورت ہو ، اُن جگہوں سے اِن مہمانوں کو ادھر اُدھر کیا جائے تو اعتراض بھی کرتے ہیں، میرے پاس بھی بعض شکایتیں آتی ہیں۔تو ایسے لوگوں سے بھی میں درخواست کروں گا کہ ایک تو جو زبان دی ہے ، جو وعدہ کیا ہے اُسے پورا کریں، دوسرے اطاعت نظام کا خیال رکھیں۔ہر چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی اطاعت انسان کو نیکیوں کی توفیق دیتی ہے۔اگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی اہمیت نہ ہوتی، معاشرے پر اس کا اثر نہ پڑ رہا ہوتا، انسان کے اخلاق پر اس کا اثر نہ پڑ رہا ہو تا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ہمیں ان باتوں کی طرف اتنی توجہ نہ دلواتے۔محمد ود وقت کے لئے مہمان نوازی کا ایک حدیث میں جہاں ذکر آتا ہے ، اس کی مزید وضاحت بھی ہوتی ہے۔یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے جو ابی شریح خزاعی سے روایت ہے۔کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مہمان نوازی تین دن تک ہے اور اس کی خصوصی خاطر داری ایک دن اور رات ہے۔مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اتنا ٹھہرے کہ اُسے گناہگار کر دے۔صحابہ نے عرض کیا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ اسے گناہ میں کیسے مبتلا کرے گا۔آپ نے فرمایا وہ اس کے پاس اتنا ٹھہرارہے کہ اس کے پاس کچھ نہ ہو جس سے وہ اُس کی ضیافت کر سکے۔(صحيح مسلم كتاب اللقطة باب الضيافة و نحوهاحدیث نمبر 4514) اب اگر میزبان ضیافت نہیں کر رہا، مہمان نوازی کا حق ادا نہیں کر رہا، چاہے وہ کسی مجبوری کی وجہ سے ہی ہو تو میزبان گناہگار بن رہا ہے اور پھر بات یہیں نہیں رکتی۔جیسا کہ پہلی حدیث میں ذکر ہو چکا ہے کہ میزبان کو تکلیف میں نہ ڈالو۔اب میز بان اپنے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے قرض لے کر بھی مہمان نوازی کرتا ہے اور اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتا ہے۔پھر اگر وعدے کے مطابق قرض دینے والے کا قرض نہیں چکا تا تو پھر گناہگار بنتا ہے۔پھر بعض دفعہ لمبی مہمان نوازی ہے، میزبان یا اُس کے گھر والے بھی، گھر میں سے کسی بھی فرد میں اس وجہ سے چڑ چڑا پن پیدا