خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 366 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 366

خطبات مسرور جلد نهم 366 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جولائی 2011ء اس جلسے میں جو میری طرف سے یا دوسرے مقررین کی طرف سے علمی، روحانی اور تربیتی مضامین بیان ہوں اُن کو شن کر یہاں بھی اور بعد میں بھی اپنے گھر وں میں جاکر عمل کرنے والے ہوں۔گزشتہ جمعہ میں میں نے ایک حدیث کے حوالے سے میز بانوں اور کارکنوں کو بتایا تھا کہ ایک مومن جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اُس کا یہ فرض ہے کہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، عزت اور احترام کرے اور عمومی مہمان نوازی تین دن رات تک ہے۔(بخاری کتاب الادب باب اکرام الضيف و خدمته اياه بنفسه حدیث 6135) گو بعض حالات میں اس سے بھی زیادہ مہمان نوازی ہو سکتی ہے اور ہوتی رہی ہے لیکن یہاں تین دن رات کہہ کر مہمانوں کو بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ بیشک میزبان کا کام ہے کہ عزت و تکریم کے ساتھ اپنے مہمان کی مہمان نوازی کرے اور یہ اُس مہمان کا جائز حق ہے، لیکن مہمان کو بھی اپنی حدود کا خیال رکھنا چاہئے۔اگر حدود سے زیادہ چاہو گے تو پھر بعض اوقات میز بانوں کی طبیعتوں میں بے چینی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔اس لئے اس حدیث میں آگے یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے اور یہ کہہ کر مہمان کی غیرت کو بھی اُبھارا گیا ہے کہ اس سے زیادہ مہمان نوازی کروانا صدقہ ہے۔اور کوئی صاحب حیثیت یا با غیرت اور عزت والا شخص صدقہ کھانا پسند نہیں کرتا۔پھر اس حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ یہ جائز نہیں کہ مہمان اتنا عرصہ مہمان نواز کے پاس رہے، میزبان کے پاس رہے کہ اُس کو تکلیف میں ڈال دے۔ظاہر ہے جب تکلیف میں ڈالا جائے گا تو طبیعتوں میں بے چینی پیدا ہو گی اور ہوتی ہے۔ہر ایک کے اپنے اپنے حالات اور مصروفیات ہیں۔جماعتی نظام ہے تو اس کے بھی اپنے بعض مسائل ہیں۔اس لئے مہمان نوازی ایسا خُلق ہے جو عزت و تکریم کا احساس پیدا کرنے کے لئے ہے، آپس میں محبت پیدا کرنے کے لئے ہے، پیار و محبت کے جذبات پیدا کرنے کے لئے ہے۔جب تکلیف پہنچانی شروع کی جائے پھر اس میں بال آنے شروع ہو جاتے ہیں۔جماعتی طور پر اجتماعی قیام گاہوں میں چاہے وہ مسجد کے ہالوں میں ہیں یا متفرق جگہوں پر ہیں ایک محدود وقت تک ٹھہرایا جا سکتا ہے۔اُس کے بعد حکومتی کارندوں کی بھی نظر ہوتی ہے کہ وہاں رہائش کا جو بھی انتظام ہے، اُس کے اندر رہتے ہوئے، شرائط پوری کرتے ہوئے انتظام ہو رہا ہے کہ نہیں۔اس لئے خاص طور پر یورپ سے باہر سے آئے ہوئے مہمان اس بات کا خیال رکھیں کہ یہاں جماعتی قیام گاہیں بھی ایک محدود وقت تک کے لئے استعمال ہو سکتی ہیں۔اس لئے اگر زیادہ ٹھہرنا ہے تو پھر اپنا کوئی اور بندوبست کریں۔لیکن اور دوسرے بندوبست میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو سامنے رکھیں کہ میزبان کو تکلیف میں نہ ڈالو۔ہر بات کی تفصیل بیان کرنا یہ اسلام کا ہی خاصہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بظاہر معمولی باتوں کو بھی سامنے رکھ کر ہماری ہر طرح سے تربیت فرمائی ہے۔پس ایک حقیقی مومن کا کام ہے کہ اُن کی پاسداری کرے۔ان بظاہر چھوٹی سے چھوٹی باتوں کا بھی خیال رکھنے سے بڑی نیکیوں کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے اور توفیق ملتی ہے اور ایک پیار اور محبت کرنے والا ایک دوسرے کے جذبات کا احساس کرنے والا معاشرہ قائم ہوتا ہے۔اور یہی ایک بہت بڑا مقصد حضرت