خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 360 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 360

360 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم حضرت شیخ جان محمد صاحب پنشنز انسپکٹر پولیس لکھتے ہیں کہ ”میری عمر اس وقت ستاسٹھ سال کی ہے۔میں نے 1903ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلے بذریعہ خط بیعت کی پھر 1904ء میں بمقام گورداسپور دورانِ مقدمہ مولوی کرم دین بھیں والے میں حاضر ہوا اور سعادۃ دستی بیعت سے مشرف ہوا۔میں منٹگمری سے آیا اور والد صاحب مرحوم چوہدری غلام احمد خان صاحب مرحوم آف کا ٹھگڑھ ضلع ہوشیار پور سے بمقام گورداسپور حاضر ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ اول نے چوہدری صاحب مرحوم کی وجہ سے کہ وہ افیون کھاتے تھے ایک علیحدہ چھولداری ہم کو دے دی جس میں ہم تین ٹھہرے اور دیگر احباب بعض نیچے مکان میں اور بعض چھولداریوں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔چوہدری غلام احمد خان مذکور نے مجھے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ باورچی خانے میں بٹیرے پکائے گئے ہیں مجھے دو بٹیرے لا دو۔چنانچہ میں نے باورچی خانے سے دریافت کیا تو اس نے بتلایا کہ لاہور سے مہمان آئے ہوئے ہیں یہ اُن کے لئے پکائے گئے ہیں۔میں ان سے اصرار کر رہا تھا کہ چوہدری غلام احمد خان ایک امیر آدمی اور خوش خور ہیں اور میرے والد صاحب کے دوست ہیں تو ضرور دو بٹیرے دے دو ( کہ ان کے لئے میں جو لے جا رہا ہوں وہ امیر آدمی بھی ہیں اور اچھا کھانے والے ہیں)۔اسی اثناء میں حافظ حامد علی صاحب مرحوم بالائی حصہ مکان میں آگئے اور یہ ماجرا انہوں نے سنا۔باورچی نے بتلایا کہ خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ آئے ہوئے ہیں، اُن کے لئے بٹیرے پکائے گئے ہیں تو میں مایوس ہو کر چھولداری میں آگیا۔تھوڑی دیر بعد حافظ حامد علی صاحب مرحوم ایک طشتری میں دو بٹیرے بھنے ہوئے لے کر آگئے اور فرمایا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ذکر کیا تھا۔حضور نے فرمایا کہ جلد اُنہیں بٹیرے پہنچاؤ اور فرمایا کہ کل سب کے لئے بٹیرے پکائے جائیں۔چنانچہ دوسرے دن ایک بڑے دیگچھ میں بٹیرے پکائے گئے اور سب کو کھلائے گئے۔(ماخوذ ازر جسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 15 صفحه 17 غیر مطبوعہ) ڈاکٹر سلطان علی صاحب کی روایت ہے جو چوہدری محمد شریف صاحب بی۔اے نیروبی نے تحریر کی ہے کہ ”1901ء میں میں قادیان گیا اور بوقت نماز مغرب قادیان مسجد مبارک میں پہنچا جو اس وقت بہت چھوٹی سی تھی۔مغرب کے بعد میرے ایک دوست نے جو ہموطن بھی تھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ افریقہ سے آئے ہیں اور چند سال ہوئے کہ انہوں نے حضور علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔حضور نے مجھ سے افریقہ کے احمدی دوستوں کے حالات دریافت فرمائے۔پھر ہاتھ اُٹھا کر دعا فرمائی اور میرے ساتھی کو تاکید کی کہ کھانے اور بستر وغیرہ کا خیال رکھیں۔جب ہم رات کو مہمان خانے میں سوئے تو ایک صاحب دودھ لائے اور فرمایا یہ حضرت صاحب نے آپ کے لئے بھیجا ہے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 2 صفحه 68 غیر مطبوعہ ) منشی امام و دین صاحب لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری اہلیہ قادیان آئیں۔مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکن تلونڈی جھنگلاں کی اہلیہ بھی ساتھ تھیں۔واپسی پر میری اہلیہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان پر پہنچیں اور اندر داخل ہونے لگیں تو حضرت صاحب تمام خاندان کے ساتھ بیٹھ کر