خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 354
354 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء مہمان بھوکا ہو جس نے کھانا نہ کھایا ہو وہ آجائے، اور چل کر لنگر خانے میں کھانا کھالے۔خاکسار کے ساتھیوں نے مجھے بھی نکال باہر کیا اور لنگر میں پہنچ کر جو کچھ ملا بعد شکر کھایا۔اگلے روز قریب دس بجے دن کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مسجد مبارک کے چھوٹے زینے کے دروازے پر کھڑے ہوئے دیکھا اور خدام کو گلی میں حضور کی طرف رُخ کئے ہوئے کھڑے دیکھا اور حضور کے سامنے حضرت مولوی نورالدین صاحب بھی تھے اور حضور کچھ جوش کے ساتھ ارشاد فرما رہے تھے کہ مہمانوں کے کھانے وغیرہ کا انتظام اچھا ہونا چاہئے۔رات مجھے الہام ہوا۔ياَيُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَر۔کہ اے نبی ! بھوکے اور معتر لوگوں کو کھانا کھلا۔چنانچہ مجھے معلوم ہوا کہ آدھی رات کو جگانا اس الہام کی بنا پر تھا“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 8 صفحہ 192-193 غیر مطبوعہ ) حضرت مولوی ابراہیم صاحب بقا پوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد صدر دین صاحب فرماتے ہیں کہ : ایک سالانہ جلسہ پر حضور نے فرمایا۔”سب آنے والوں کو ایک ہی قسم کا کھانا کھلاؤ۔“ اس پر خواجہ صاحب یا کسی اور نے عرض کیا کہ حضور بعض غرباء ایسے بھی آتے ہیں جن کو اپنے گھر میں دال میسر نہیں آتی اس لئے اُن کو یہاں دال کھلانا معیوب نہیں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ گو اُن کو گھر میں دال نہ ملتی ہو لیکن جب دوسرے کو گوشت یا پلاؤ کھاتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کو کھانے کی خواہش ضرور پید اہو گی اور بصورت نہ ملنے کے اُن کی دل شکنی ہو گی۔میرے مرید خواہ وہ غریب ہوں یا امیر ، میرا اُن کے ساتھ ایک ہی جیسا تعلق ہے اس لئے ایک ہی قسم کا کھانا پکاؤ۔گوشت پلاؤ وغیرہ دو تو سب کو دو اور دال دو تو سب کو دو“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 8 صفحہ 64 غیر مطبوعہ) پس ہمیشہ یہی اصول مد نظر رکھنا چاہئے۔حضرت مفتی چراغ صاحب ولد مفتی شہاب الدین صاحب لکھتے ہیں کہ ”حضرت صاحب کو کپور تھلہ کی جماعت سے خاص انس تھا۔حضور نے الگ اس جماعت کے لئے پلاؤ تیار کروایا تھا۔جب تیار ہو چکا تو حضور نے کسی کو فرمایا کہ جماعت کو کھلا دو۔( یہ جلسے کے علاوہ کی بات تھی) اس شخص نے عرض کیا کہ حضور وہ تو چلے گئے ہیں۔فرمایا یگہ پر کھانا بٹالہ لے جاؤ اور جب وہ سٹیشن پر اتریں تو کھانا پیش کر دو۔اُن کے پیچھے کھانا بھجوایا۔چنانچہ حضور کا آدمی یگہ پر ، ( ٹانگے پر) کھانا لے کر ہمارے پاس سے گزر گیا۔ہمیں علم نہ ہوا۔جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو حضور کی طرف سے کھانا پہلے موجود تھا۔حضور کے آدمی نے کہا کہ کھانا کھا لیں۔ہم حیران ہوئے کہ یہ کھانا کہاں سے آیا اس پر اُس نے سارا قصہ کہہ سنایا۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 9 صفحه 11-12 غیر مطبوعہ ) حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل بیان فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے وقت میں جلسہ سالانہ اُس جگہ ہوا کرتا تھا جہاں آج کل مدرسہ احمدیہ اور مولوی قطب دین صاحب کے مطب کی درمیانی جگہ ہے۔یہاں ایک پلیٹ فارم بنایا گیا تھا جس پر جلسہ ہوتا تھا۔حضرت صاحب کے زمانہ میں جلسہ کے دنوں میں عموماً ہم زردہ پلاؤ