خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 353
خطبات مسرور جلد نهم لے کر آئے) 353 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء ( مہمانوں کی تلاش میں تھے یقینا اللہ تعالیٰ نے بتایا ہو گا کہ ایک مہمان کی یہ خواہش ہے تو آپ گھر سے و وہ حضرت نور احمد خان صاحب ولد چوہدری بدر بخش صاحب لکھتے ہیں کہ ” مجھے جلسہ سالانہ پر آنے کا اتفاق ہوا۔دو آبہ یعنی ضلع جالندھر اور ہوشیار پور کے تمام احمدی ایک ہی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ہمارے ساتھ چوہدری غلام احمد صاحب رئیس کا ٹھگڑھ بھی تھے۔رات کو قادیان پہنچے تھے۔کمرہ میں بسترے رکھ کر تمام دوست بیٹھ گئے مگر نصف رات تک کھانانہ ملا۔لوگ بہت بھوکے تھے اور بار بار چوہدری صاحب مذکور کے پاس شکوہ کرتے تھے کہ ابھی تک کھانا نہیں ملا۔اخیر چوہدری صاحب نے کہا کہ بازار میں جا کر دودھ پی لو۔مگر اتنی بے چینی پیدا نہ کرو، کھانا مل جائے گا۔لوگ کھانے کا انتظار کر کے تھک گئے ، آخر بہت دوست بھو کے سو گئے۔رات نصف سے زیادہ گزر چکی تھی، اچانک چند آدمی نمودار ہوئے، کہنے لگے کہ حضرت صاحب کو الہام ہو ا ہے کہ مہمان بھو کے ہیں، اُن کو کھانا کھلاؤ۔بدیں وجہ لوگ کمروں میں جگا جگا کر کھانا دے رہے ہیں، ہمارے کمرے میں بھی چند آدمی کھانا لے کر آئے۔چوہدری صاحب نے تمام دوستوں کو جگا کر کھانا کھلایا، ہمارے ساتھ چوہدری غلام قادر صاحب سر وعہ والے بھی تھے انہوں نے کہا کہ یہ کھانا خدا نے جگا کر دیا ہے وہ بقیہ ٹکڑے بطور تبرک کے کہ یہ الہامی کھانا ہے اپنے پاس سر وعہ کو لے گئے“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 6 صفحہ 273-274 غیر مطبوعہ) حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب انچارج نور ہسپتال جو بڑا لمبا عرصہ حضرت مصلح موعودؓ کے معالج بھی رہے ہیں، بلکہ وفات تک آپ کے ساتھ ہی رہتے تھے وہ لکھتے ہیں کہ ”جلسہ کے موقع پر ایک شب بحیثیت اپنی جماعت کے سیکرٹری کے صدر انجمن احمدیہ کے اجلاس میں میری حاضری ہوئی۔یہ اجلاس بعد نماز مغرب اور عشاء مسجد مبارک میں منعقد ہوا۔خاکسار اپنی نا تجربہ کاری اور سادگی کی وجہ سے یا شوق کی وجہ سے اعلان شدہ وقت کے اول وقت میں ہی اجلاس کے مبارک مقام یعنی مسجد مبارک میں پہنچ گیا۔گو وہ وقت کھانے کا تھا اور مجھے سخت بھوک بھی لگی ہوئی تھی کیونکہ صبح آٹھ بجے کا کھانا کھایا ہوا تھا مگر جلسہ کے احترام کی وجہ سے یا پابندی وقت کے خیال سے خاکسار نے اپنی ناچیز حاضری کو اول درجہ پر بر قرار رکھا۔یعنی نماز ہائے مغرب و عشاء جو جمع ہو کر ادا ہوئی تھیں کے بعد بجائے باہر جانے کے مسجد میں ہی بیٹھ گیا اور جلسہ کے انعقاد کی انتظار کرنے لگا۔ممبران کی آمد دیر کے بعد شروع ہوئی اور قریب ساڑھے نو بجے کے جلسے کی کارروائی شروع ہوئی اور قریب گیارہ بارہ بجے جلسہ ختم ہوا۔اس دوران میں شدت بھوک کی وجہ سے خاکسار کی حالت ناگفتہ بہ رہی اور یہ شدت مجھے دیر تک یاد رہی اور اب تک بھی بھولی نہیں۔جلسہ سے فارغ ہو کر جب میں اپنے جائے قیام پر گیا تو جماعت پٹیالہ کے احباب میں سے غالباً حافظ بھائی ملک محمد صاحب میرے لئے ایک روٹی کا ٹکڑا لے آئے تھے۔لنگر خانہ بند ہو چکا تھا، میں نے اس ٹکڑے کو چبانا شروع کر دیا۔ابھی وہ ختم نہ کیا تھا کہ ایک زبر دست دستک ہمارے کمرہ کے دروازے پر پڑی اور آواز آئی کہ کوئی