خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد نهم 30 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء آنحضرت صل الم کے مقام کے بارے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ روشنی دکھائی ہے کہ جس کے لئے ایک احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی شکر گزار ہے اور ہونا چاہئے۔اگر آپ ہمیں صحیح راستہ نہ دکھاتے تو ہمارا بھی آنحضرت صلی ایم سے تعلق کا اظہار صرف ظاہری قانونوں اور جلسے جلوسوں تک ہی ہوتا۔اس درود میں جب ہم آلِ محمد کہتے ہیں تو آنحضرت کے پیارے مہدی کا تصور بھی ابھرنا چاہئے جس نے اس زمانے میں ہماری رہنمائی فرمائی۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض تحریرات پیش کرتا ہوں جس سے ظاہر ہو گا کہ آنحضرت صلی ا ظلم کے اعلیٰ ترین مقام کو جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سمجھا ہے اور دیکھا ہے، وہ کیا ہے ؟ یقینا یہ آپ ہی کا حصہ ہے جو اس سے ہمیں آگاہی فرمائی۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔وہ ملا یک میں نہیں تھا۔نجوم میں نہیں تھا۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا۔صرف انسان میں تھا۔یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی صلی علیکم ہیں۔سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں “ ( اس اسوہ پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں) اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید ہمارے مولیٰ ہمارے ہادی نبی امی صادق مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ ہم میں پائی جاتی تھی۔“ (آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن۔جلد 5۔صفحہ 160 تا 162) پھر اس عاشق صادق کے عشق رسول میں فنا ہونے اور دلی جذبات کے اظہار کا ایک اور نمونہ بھی دیکھیں۔آپ فرماتے ہیں: میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دُنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اُس کو دُنیا میں لایا۔اُس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اُس کے کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی سنبھی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اُس