خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 352

352 خطبات مسرور جلد نهم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء پر مشرق کی طرف رُخ فرمائے بیٹھے تھے اور یہ عاجز مغرب کی طرف منہ کر کے حضور کے سامنے بیٹھا تھا کہ مشرق سے چاند کا طلوع ہوا جو قریباً چودہ یا پندرہ تاریخ کا چاند تھا۔اس وقت مجھے حضور کے چہرہ مبارک سے شعاعیں نکلتی اور چاند کی شعاعوں سے ٹکراتی نظر آتی تھیں۔“ (رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 6 صفحہ 8 الف۔ب غیر مطبوعہ ) پھر حضرت میاں چراغ دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد میاں صدر الدین صاحب کہتے ہیں کہ ”شیخ مظفر الدین صاحب آف پشاور کے والد صاحب نے لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت کی۔کمرہ چھوٹا تھا اور لوگ زیادہ آگئے تھے۔میں حضور کے پاس کھڑا تھا، بیٹھنے کے لئے جگہ نہ تھی۔حضور نے مجھے دیکھ کر اور اپنا زانو اٹھا کر اور مجھے اپنے دست مبارک سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھالیا اور فرمایا کہ میرے ساتھ کھاؤ۔اس پر میں نے حضور کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 4 صفحہ 58 غیر مطبوعہ ) حضرت ذوالفقار علی خان صاحب ولد عبد العلی خان صاحب رام پور کے تھے ، یہ کہتے ہیں کہ ”جب میں آتا تھا تو میرے کھانے میں پلاؤ ضرور ہوتا تھا۔ایک دن میں نے حافظ حامد علی صاحب مرحوم سے پوچھا کہ پلاؤ دونوں (وقت) کیوں ہوتا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا جب آپ پہلی بار آئے تھے تو حضور نے مجھے بلا کر فرمایا تھا کہ تحصیلدار صاحب کے لئے پلاؤ ضرور لایا کرو۔حضور نے میرے باورچی سے ایک مرتبہ گورداسپور میں بریانی پکوائی تھی اُسی سے غالباً خیال کیا ہو گا کہ یہ اکثر کھاتے ہیں جبھی باور چی مشاق ہے اور یہ واقعہ تھا اس لئے ہدایت فرمائی کہ (رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 6 صفحہ 379 غیر مطبوعہ ) تکلیف نہ ہو“۔( یعنی کسی وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کے ہاں گئے تھے ، یہ تحصیلدار تھے۔وہاں بریانی پکائی گئی تھی جو اچھی تھی۔اس باورچی نے جو بریانی پکائی تھی اُس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خیال ہوا کہ یہ لوگ اکثر کھاتے ہیں تبھی باورچی جو ہے وہ اچھی بریانی پکاتا ہے۔اس بات پہ جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاں حاضر ہوئے تو آپ نے اُن کی مہمان نوازی اس طرح فرمائی کہ فرمایا کہ ان کو دونوں وقت پلاؤ بنا کے کھلایا کرو۔) حضرت بدر دین صاحب ولد گل محمد صاحب مالیر کوٹلہ کے تھے، کہتے ہیں کہ ” ایک روز عاجز اپنے والد صاحب کے ہمراہ بورڈنگ والے کنویں سے پانی نکال رہا تھا، رات کے نو بج چکے تھے اور نماز عشاء بھی ہو چکی تھی تو حضور اپنے ہاتھ پر ایک پیالہ جس میں دودھ اور ڈبل روٹی پڑی تھی، اُٹھائے کنویں پر آگئے اور آکر میرے والد صاحب سے فرمانے لگے: ”بابا جی کوئی مہمان بھوکا ہے۔“ اس پر والد صاحب نے کہا کہ حضور میاں نجم الدین توسب جگہوں سے دریافت کر گئے ہیں سب نے کھانا کھا لیا ہے۔تب حضور نے فرمایا اچھا میرے ہمراہ چلو۔تب ہم دونوں باپ بیٹا حضور کے ہمراہ ہو لئے۔جب مہمان خانہ میں جا کر مہمانوں سے معلوم کیا تو کوئی نہ ملا۔تو پھر ہم شیر محمد صاحب دوکاندار والی دوکان جو اُس وقت کھلی تھی اُس کے پاس پہنچے تو وہاں سے ایک صاحب نے کہا کہ حضور ! میں نے تو دودھ ڈبل روٹی کھانی ہے۔اس پر حضور نے وہ پیالہ اُس صاحب کو دے دیا“۔(رجسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 7 صفحہ 170 غیر مطبوعہ )