خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 347 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 347

خطبات مسرور جلد نهم 347 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2011ء اور تیسر اجنازہ ہے عزیزم شاہد مرید تالپور جو نور احمد تالپور صاحب حیدرآباد کے بیٹے تھے۔آج کل ایڈ لیڈ میں ساؤتھ آسٹریلیا میں تھے۔2 جون کو اپنے گھر کے سامنے سڑک عبور کرتے ہوئے ان کی وفات ہو گئی۔اڑتیس سال ان کی عمر تھی۔ان کے والد نور احمد تالپور صاحب ایک لمبا عرصہ امیر جماعت حیدرآباد بھی رہے ہیں۔شاہد مرید نے مہران یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجنیئر نگ کی تھی اور پھر کچھ عرصہ پاکستان میں ایک کمپنی میں کام کرتے رہے۔پھر آسٹریلیا آگئے اور یہاں بھی ایک کمپنی میں نیٹ ورک انالسٹ (Analyst) کے طور پر کام کر رہے تھے۔پاکستان میں بھی یہ قائد مجلس کے طور پر خدمت کی توفیق پاتے رہے اور اچھے قائدین میں سے تھے ، علم انعامی حاصل کرنے والے۔1992ء میں کوٹری مسجد کی حفاظت کے دوران بائیس افراد کو اسیر بنایا گیا جن میں یہ بھی شامل تھے۔ان کے والد اچھے وکیل تھے۔اثر ورسوخ والے تھے۔اس وجہ سے جب یہ عدالت میں آتے تو بعض دفعہ پولیس والے ان کو کرسی دے دیتے تھے اور یہ ہمیشہ اپنے جو سینئر انصار تھے اُن کو بٹھا دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ حج نے ان کو کہا کہ میں آپ کے بیٹے کو ضمانت پر رہا کر دیتا ہوں تو ان کے والد صاحب بھی بڑے مخلص آدمی تھے انہوں نے کہا کہ میرے لئے تو سارے بائیس افراد جو ہیں یہ سب میرے بیٹے ہیں یا تو سب کو آزاد کر دیا اس کو بھی اندر رکھو۔تو یہ بڑا وفا سے احمدیت پر قائم رہنے والا خاندان تھا اور ہے۔رہائی کے بعد لطیف آباد کے تین خدام کو اپنی گاڑی پر مسلسل آٹھ سال تک یہ عدالت میں پیشی کے لئے لے جاتے رہے اور واپس لاتے رہے۔1999ء میں یہ آسٹریلیا چلے گئے تھے اور وہاں بھی اللہ کے فضل سے جماعت کے سیکرٹری امور عامه ، سیکرٹری تعلیم ، جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے تھے۔ایڈلیڈ کی مسجد کمیٹی کے ایک فعال رکن تھے۔اور وفات والے دن بھی مسجد کمیٹی کے ممبر ان کے ساتھ چند جگہیں دیکھنے گئے تھے۔واپس لوٹے ہی تھے کہ گھر کے قریب سڑک عبور کرتے ہوئے حادثے میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔بڑے اطاعت گزار اور نظام جماعت کی طرف سے جو کام بھی سپر د ہوتا نہایت محنت ، اخلاص اور دیانتداری سے بروقت کرتے تھے۔ان کی وفات بھی گویا جماعتی خدمت کے دوران ہی ہوئی ہے اور یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔بڑے خوش اخلاق تھے اور عبادت گزار اور نیک۔ضرورتمندوں کی پوشیدہ طور پر مدد کرتے تھے۔ہر ایک کے ساتھ بڑی عزت سے پیش آتے۔جماعت میں بڑا احترام تھا۔ہر فرد کا احترام کرتے تھے۔خاص طور پر عہدے داروں کا بڑا احترام کرتے تھے۔موصی بھی تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں ہیں۔ان سب کے جنازے انشاء اللہ ابھی نماز جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔اللہ تعالیٰ سب کے درجات بلند کرے۔( الفضل انٹر نیشنل مورخہ 22 جولائی تا 4 اگست 2011ء جلد 18 شماره 30، 29 صفحہ 15 تا18 )