خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 345
345 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بیعت کا دن تھا۔میں نے اس کو کہا کہ جس طرح کی تم بات کر رہی ہو اس سے لگتا ہے کہ اس کو وہاں مسجد میں ہی لے آؤ جہاں بیعت ہو رہی ہے۔تو خیر یہ خاتون مربی صاحب کی اہلیہ کے ساتھ مسجد چلی گئیں اور ایم۔ٹی۔اے پر جو نظارہ دیکھتی تھیں تو بار بار ان کی اہلیہ کے گھٹنوں پر ہاتھ مار کر کہتی تھیں کہ ماما! بالکل یہی میں نے دیکھا ہے (وہاں افریقہ میں کسی عورت کو عزت سے بلانا ہو تو ماما کہتے ہیں)۔یہ دو سال پہلے کا واقعہ ہے۔پھر کہتے ہیں کہ جب یہ عالمی بیعت شروع ہوئی اور ایک سفید مار کی میں جب میں داخل ہوا) تو یہ عورت اچھی طرح اہلیہ کو متوجہ کر کے کہتی ہیں کہ یہی وہ شخص تھا جو میری خواب میں آیا تھا اور دیکھو وہ بڑے سارے سفید گھر میں داخل ہوئے ہیں، مار کی سفید رنگ کی تھی)۔دیکھو لوگ بھی بہت زیادہ ہیں۔پھر عالمی بیعت کر کے بہت خوش تھیں۔اور گھر پہنچنے پر سارا خواب بڑی تسلی سے پھر دوبارہ سنایا۔جس پر مربی صاحب کہتے ہیں میں نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری رہنمائی بڑی وضاحت سے کی ہے۔اس لئے امام مہدی کی جماعت میں شامل ہو جاؤ اور نیچے دل سے شامل ہو گی تو یہی تمہارے مسائل کا حل ہے۔کیونکہ تمہیں خلیفہ وقت نے خود آکر اپنی طرف بلایا ہے ، تمہیں اس بارے میں غور کرنا چاہئے۔اُس نے کہا کہ گو میں الفاظ تو دہر اچکی ہوں لیکن سوچ کر جواب دوں گی کہ میں مانتی ہوں کہ نہیں۔گو ان کی بڑی عمر تھی اور والدین بھی بڑھاپے میں تھے۔گھر جا کر اپنے والدین کو بتایا تو والد بڑے ناراض ہوئے کہ تمہیں اس دن کے لئے ہم نے پیدا کیا تھا کہ اپنے باپ دادا کے دین سے منحرف ہو رہی ہو ؟ بہر حال ایک دن وہ آئیں اور روپڑیں کہ وہ بزرگ دوبارہ میری خواب میں آئے ہیں یعنی خلیفۂ وقت ( مجھے دیکھا انہوں نے) اور کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بتاتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ میری طرف آجاؤ۔اسی میں تیری نجات ہے۔اس لئے میں بڑی پریشان ہوں۔پتہ نہیں موت مجھے کیسے آگھیرے۔پہلے ہی پچاس سال سے اوپر ہو چکی ہوں۔اس لئے میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب میں احمدیت میں داخل ہو جاؤں اور مجھے میرے باپ نے تو قبر کے عذاب سے نہیں بچانا۔چنانچہ انہوں نے سچے دل سے بیعت کر لی ہے اور اپنی تنخواہ میں سے باقاعدہ چندہ بھی دینا شروع کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس سچائی کو دلوں میں ڈالنے کے واقعات تو بے شمار ہیں۔ان کا بیان ممکن نہیں ہے۔انشاء اللہ جلسہ آرہا ہے۔اس سال کے کچھ واقعات وہاں بھی آپ سنیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارشوں کو بھی دیکھیں گے لیکن سب کو سمیٹنا ممکن نہیں۔اس لئے جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اب میں نے دورانِ سال بھی یہ ذکر کر نا شروع کر دیا ہے تا کہ ہم ان نئے آنے والوں کے لئے بھی اور اپنے ایمانوں کی مضبوطی کے لئے بھی دعا کریں اور اللہ تعالیٰ کے ان انعامات پر حمد اور شکر بھی کریں کہ خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے ہمیں سچائی کے راستے دکھا رہا ہے اور پھر اس پر قائم بھی کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کے یہ نظارے ہمیشہ ہمیں دکھاتا چلا جائے اور ہم سب کو اور نئے آنے والوں کو بھی ثبات قدم عطا فرمائے۔پس وہ لوگ جو اپنے زعم میں دنیا میں پھر پھر کر احمدیت کے خلاف زہر اُگل کر نیک فطرتوں کو احمدیت سے بد ظن کرنا چاہتے ہیں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں میں یہ کہتا ہوں۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: