خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 334 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 334

خطبات مسرور جلد نهم 334 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جولائی 2011ء کی کوئی زندگی نہیں ہے۔شاید اس کے بغیر تھوڑی سی دنیا تو اُن کو مل جائے لیکن نسلیں برباد ہو جائیں گی۔اس لئے ہمیشہ جماعت اور نظام جماعت سے جڑے رہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ عمومی طور پر باہر سے آئے ہوئے غیر از جماعت مہمانوں نے بڑا اچھا اثر لیا ہے۔وفود بھی مجھے ملے ہیں، افراد بھی ملے ہیں۔جو بار بار آنے والے ہیں اُن کی نظروں میں پہچان اور محبت بڑھ رہی ہے، احمدیت کے قریب آرہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ جلد اُن کے سینے کھلیں اور وہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو ماننے والے ہوں۔الفضل میں رپورٹس شائع ہوں گی تو وہاں سے بھی کچھ تفصیلات لوگوں کو مل جائیں گی، اُن لوگوں کے تاثرات مل جائیں گے۔بہر حال مختصر میں بھی بتا دیتا ہوں۔ایک عیسائی دوست ہیں مالٹا سے اپنی اہلیہ کے ساتھ شامل ہوئے ہیں، دوسری دفعہ شامل ہوئے ہیں، پڑھے لکھے ہیں، اخبارات میں آرٹیکل لکھتے ہیں وہاں کی بعض حکومتی کمیٹیوں کے ممبر بھی ہیں۔کہنے لگے میں نے تمہاری تقریروں سے بعض پوائنٹس نوٹ کئے ہیں اور انہوں نے ڈائری دکھائی کہ اُس پر وہ پوائنٹس نوٹ کرتے رہے ہیں۔اور وہ کہنے لگے کہ اب ان پر جاکر میں لکھوں گا اور خاص طور پر مجھے کہا کہ تمہاری آخری تقریر مجھے بہت پسند آئی ہے، اس کے بھی میں نے پوائنٹس لکھ لئے ہیں۔اب آخری تقریر جو خالصتاً جماعتی تربیت کے لئے تھی اس میں بھی اُن کو اپنے لحاظ سے بعض باتیں مل گئیں۔اسی طرح ایک عیسائی وکیل ہیں بلغاریہ سے آئے ہوئے، اکثر آتے ہیں۔انہوں نے مستورات کی تقریر میں عورتوں کی تربیت اور طلاق خلع کے معاملات جو تھے اُن کو بڑے غور سے سنا اور ان معاملات نے اُن کو اپنی طرف متوجہ کیا۔وہ وکیل ہیں۔اور انہوں نے کہا کہ مجھے تمہاری جماعت کی یہ بات بہت اچھی لگی ہے کہ صلح صفائی کے لئے تمہارے اندر بھی ایک نظام موجود ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ تم نے بالکل صحیح بات کی ہے کہ برداشت بہت زیادہ کم ہوتی جارہی ہے اور عمومی طور پر ساری دنیا میں ہی کم ہوتی جارہی ہے ، اور ظاہر ہے اُس کا اثر جماعت پر بھی پڑرہا ہے۔اس لئے ہمیں فکر بھی کرنی چاہئے کہ ہم ہمیشہ دنیا کے بداثرات سے بچے رہیں اور مجھے انہوں نے بتایا کہ عام طور پر ہمارے پاس بھی اب عدالتوں میں طلاق کے واقعات کے کیس بہت زیادہ بڑھ رہے ہیں لیکن جو پسند اُن کو چیز آئی وہ یہی تھی کہ تمہارا تو ایک اندرونی تربیتی نظام بھی ہے۔ہمارے ہاں وہ بھی نہیں ہے۔پس غیر بھی باتوں کا اثر لیتے ہیں اور نوٹ کرتے ہیں اور یہ چیزیں اُن کی توجہ کھینچنے کا باعث بن رہی ہیں۔میں تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کا بہت شکر گزار ہو تا ہوں اور جماعت کو بھی شکر گزار ہونا چاہئے کہ اسلام کی تعلیم کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچانے کا کام اللہ تعالیٰ نے سپرد فرمایا ہے وہ لوگوں کی توجہ کھینچنے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔لیکن یہ بات ہمارے اُن لوگوں کو بھی توجہ دلانے والی ہونی چاہئے جو تقریروں پر بھی پوری توجہ نہیں دیتے، باتوں کو بھی غور سے نہیں سنتے اور اپنے کوئی معاملات ہوں، جھگڑے ہوں تو نظام جماعت کو چھوڑ کر دنیاوی عدالتوں کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دنیا والے ہمارے طریق کو پسند کر رہے ہیں کہ یہ بڑا اچھا تربیتی طریق ہے۔