خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 331
خطبات مسرور جلد نهم 331 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم جولائی 2011ء کہ اس دفعہ نئی جگہ تھی اس لئے جہاں بعض سہولتیں نظر آئیں اور آرام دہ انتظام ہو اوہاں بعض خامیاں بھی رہ گئی ہوں گی بلکہ رہی ہیں لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے انتظامیہ کو بہت زیادہ موردِ الزام ٹھہرایا جائے اور پریشان کیا جائے۔سو فیصد perfection تو کسی انسانی کام میں ہو ہی نہیں سکتی۔یہ کاملیت تو صرف خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اس لئے انسانی کاموں میں بہتری کی ہر وقت گنجائش رہتی ہے اور اُس کے لئے اللہ تعالیٰ نے دعا کے مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے کہ بندے کا کام ہے کہ عمل کرو۔جو طریقے ہیں وہ اختیار کرو۔اپنی کوشش پوری کرو پھر معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو اور دعا کرو کہ باقی جو کمیاں رہ گئی ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو خود پورا فرمائے۔اور پھر جو نتائج پیدا ہوتے ہیں اُس کے لئے اللہ تعالیٰ نے شکر گزاری کی طرف بھی توجہ دلائی ہے تا کہ ان خامیوں اور کمیوں میں مزید بہتری پیدا ہو سکے۔جب انسان ایک چیز بہتر کرتا ہے تو اُس پر شکر گزاری کرے تو اللہ تعالیٰ پھر اگلا قدم بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔اور یہی سبق ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے عمل سے دیا ہے۔بعض باتیں جو میں نے نوٹ کی ہیں یا جو مجھے بتائی گئیں اُن میں آئندہ بہتری کے لئے اُن کا ذکر کر دیتا ہوں۔لیکن اس سے پہلے میں اُن لوگوں سے جو صرف تنقید کرنا جانتے ہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ لوگ حقیقت میں بہتری کے خواہش مند ہیں تو ادھر اُدھر باتیں کرنے کی بجائے انتظامیہ کو اپنے مشورے دیں۔اُن کو نقائص بتائیں جو آپ نے دیکھے اور کام کرنے والوں کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں آئندہ مزید بہتر رنگ میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور انتظامیہ کو بھی کھلے دل کے ساتھ توجہ دلانے والوں کی باتوں پر غور کرنا چاہئے اور جلسے کی ایک لال کتاب ہوتی ہے جس میں تمام خامیوں کا ذکر ہوتا ہے ان کمیوں کو جو حقیقت میں کمیاں ہیں اور جن کے بارے میں توجہ دلائی گئی ہے اُس میں ان کو تحریر کیا جانا چاہئے۔ایک کمی جس کا انتظامیہ کو بھی احساس ہو چکا ہے وہ ماحول میں، مردانہ ہال میں بھی، زنانہ ہال میں بھی آواز کی گونج تھی جس کی وجہ سے پہلے دن میر ا خطبہ ہال میں بیٹھے ہوئے تقریباً1/4 حصہ لو گوں کو صحیح طرح سے سمجھ نہیں آسکا یا وہ سن نہیں سکے۔بعد میں انتظامیہ نے اس کی اصلاح کی کوشش بھی کی اور کچھ بہتری بھی پیدا ہوئی لیکن واضح بہتری پھر بھی نہیں تھی۔اس لئے آئندہ سال یا تو ساؤنڈ سسٹم کو ٹھیک کرنا ہو گا یا سٹیج کی جگہ کو بدل کر ٹھیک کرنا ہو گا جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، یا کوئی اور نقص جو بھی ہے اُس کو معلوم کرنا ہو گا اور اُسے ٹھیک کرنا ہو گا۔اس چیز کو دیکھنا بہت ضروری ہے۔اس کے بغیر تو انتظامی لحاظ سے لوگوں کو خاموشی سے بٹھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔اگر آواز نہ آرہی ہو۔مرد تو شاید خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں لیکن وہاں بھی جو چھوٹی عمر کے بچے ہیں ، دس بارہ سال کے ، وہ نہیں بیٹھ سکتے۔مر دیا بیٹھے رہیں گے یا وہاں سے اُٹھ کر چلے جائیں گے۔لیکن عورتوں کو اور خاص طور پر بچوں والے ہال میں عورتوں اور بچوں کو خاموش کروانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن اس دفعہ میں نے عورتوں میں ایک اچھی بات دیکھی ہے کہ کم از کم میری تقریر کے دوران باوجود اس کے کہ میری آواز واضح اُن تک نہیں پہنچ رہی تھی اور اس کے لئے کئی مرتبہ پیچھے بیٹھی ہوئی خواتین نے انتظامیہ کو پیغام بھی بھیجے کہ آواز کو درست کرو لیکن