خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 322
خطبات مسرور جلد نهم 322 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء لئے اجازت چاہی تو حضور نے فرمایا کہ ٹھہر و۔رسالہ الوصیت اُس وقت چھپ کر آیا تھا۔ابھی گیلا ہی تھا کہ ہم کو اُس کی ایک ایک کاپی عنایت کر دی گئی اور ساتھ ہی حضور نے ہمیں واپسی کی اجازت بھی دے دی۔چنانچہ ہم رسالہ الوصیت لے کر واپس لاہور آگئے۔لاہور میڈیکل کالج کے ہسپتال اسسٹنٹ کلاس نے جن میں میں بھی شامل تھا، 1906ء کے آغاز میں بعض شکایات کی بنا پر سٹرائک کر دی ( ہڑتال کر دی) اس میں احمدی میڈیکل طلباء بھی شامل تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اس کا علم ہوا تو حضور نے ازراہ کرم ایک تاکیدی حکم ہمیں بھیجا کہ ایسی تحریکات میں حصہ لینا اسلام کے خلاف ہے اور جماعت احمدیہ کی بھی روایات کے خلاف ہے اس لئے تم سب پر نسپل صاحب سے معافی مانگ کر کالج میں پھر داخل ہو جاؤ۔ساتھ ہی پر نسپل صاحب میڈیکل کالج کو بھی لکھا اور ساتھ ہی سفارش بھی کی کہ ہماری جماعت کے طلباء کو معافی دے کر پھر داخل کر لیویں۔چنانچہ ہم پانچوں احمدی طلباء معافی مانگ کر پھر داخل ہو گئے۔اس پر پیسہ اخبار لاہور نے مسیح کے پانچ حواری کے عنوان سے ایک مضمون لکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور احمدی جماعت پر بہت اعتراض کئے۔لیکن پھر بھی اثر نہیں ہوا، باقی لڑکے بھی اُس کے بعد معافی مانگ کر داخل ہو گئے۔کہتے ہیں حضور کے بہت سارے خطوط میرے پاس ہیں۔لیکن جنگ عظیم کی وجہ سے باہر تھے ، وہ گم گئے۔(ماخوذ از روایات حضرت ڈاکٹر محمد دین صاحب رجسٹر روایات جلد 1 صفحہ 54،53 غیر مطبوعہ) تو بہر حال ہڑتال کے بارے میں سٹرائکوں کے بارے میں ہمارا کیا موقف ہے اس بارے میں میں بڑے واضح طور پر خطبات دے چکا ہوں۔چوہدری غلام رسول صاحب بسر اء 99 شمالی سرگودھا کہتے ہیں کہ دسمبر 1907ء جلسہ سالانہ کا واقعہ ہے کہ جمعرات کی شام کو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صبح باہر سیر کو جائیں گے۔اس وقت دستور یہ تھا کہ جب بہت بھیڑ ہو جاتی تھی تو آپ کے گرد بازؤوں کا حلقہ باندھ لیا جاتا تھا اور آپ اس حلقے کے بیچ چلتے تھے۔(جس طرح چین (Chain) بنالیتے ہیں بازو پکڑ کے) چنانچہ میں نے اپنے ہمرائیوں مولوی غلام محمد گوندل امیر جماعت احمد یہ چک 99 شمالی، چوہدری میاں خان صاحب گوندل اور چوہدری محمد خان صاحب گوندل مرحوم سے صلاح کی کہ اگر خدا نے توفیق دی تو صبح جب آپ باہر سیر کو نکلیں گے تو ہم آپ کے گرد بازؤوں کا حلقہ بنائیں گے، اس طرح پر ہم حضور کا دیدار اچھی طرح کر سکیں گے۔صبح جب نماز فجر سے فارغ ہوئے تو تمام لوگ حضور کے انتظار میں بازار میں اکٹھے ہونے شروع ہو گئے۔یہ مکمل پتہ تو نہیں تھا کہ حضور کس طرف سے باہر تشریف لے جائیں گے لیکن جس طرف سے ذراسی بھی آواز اُٹھتی کہ آپ اس طرف باہر سیر کو تشریف لے جائیں گے لوگ اُسی طرف ہی پروانہ وار دوڑے جاتے تھے۔کچھ دیر اسی طرح ہی چہل پہل بنی رہی۔آخر پتہ لگا کہ حضور شمال کی جانب سے ریتی چھلا کی طرف باہر سیر کو تشریف لے جائیں گے۔ہم لوگوں نے جو آگے ہی منتظر تھے کپڑے وغیرہ گس لئے اور تیار ہو گئے کہ جس وقت حضور بازار سے باہر دروازے پر تشریف لے آئیں، اُسی وقت ہم بازؤوں کا حلقہ بنا