خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 311 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 311

خطبات مسرور جلد نهم 311 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء نماز ادا کریں۔حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا غیر احمدی نماز ادا کرنے کی اجازت دیں گے ؟ تو میں نے عرض کیا کہ ہمارے محلے کی مسجد میں نماز ادا کرنے سے ہم کو کون روک سکتا ہے ؟ حضور نے فرمایا کہ اگر کوئی روک نہیں تو علیحدہ نماز ادا کر لی جاوے ورنہ نہیں۔شروع میں ہم کو خبر نہ تھی کہ مخالفت اس قدر ہو گی کہ محلے کی مسجد میں نماز ادا کرنا تو در کنار، اس کے اندر جانے کی بھی اجازت نہ ہو گی اور برادری سے قطع تعلق ہو گا۔ہم کو کافر، ضال اور مضل کا خطاب دیا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔(ماخوذ از روایات حضرت ضیاء الحق صاحب رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 57،56 غیر مطبوعہ ) تو شروع شروع میں بعض دفعہ جب لوگ بیعت کرنے آتے تھے ، تو یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ مخالفت اس قدر بڑھی ہوئی ہے اور یہ مخالفت تو آج بھی ہے لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ نے بعد میں وہاں بھی مسجدیں بنانے کی توفیق دی اور دنیا میں آج ہر جگہ مسجدیں بن رہی ہیں۔جرمنی میں اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو چھ مسجدیں یا چار مساجد با قاعدہ اور دو کو مسجد میں بدلنے کا موقع اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔پھر ایک بے تکلف مجلس کا ذکر ہے ، حضرت نظام الدین صاحب معرفت نظام اینڈ کو شہر سیالکوٹ۔یہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جلسہ سالانہ سے رخصت ہو کر گھر واپس جانے کے لئے حضرت اقدس کے حضور اجازت لینے کے لئے حاضر ہوئے تو حضور رخصت دے کر اندرون کی کھڑکی سے اندر جانے لگے۔تو میرے ہمراہ ایک صاحب ملتان کے رہنے والے بھی تھے ، انہوں نے اجازت حاصل کر لینے کے بعد اپنی ملتانی زبان میں کہا، (ملتانی زبان پنجابی اپنا طر ز ہے اُن کا) کہا کہ حضرت! ”میں کو کوئی وظیفہ ڈٹو“ یعنی مجھے کوئی وظیفہ بتائیں۔تو حضور مسکرا پڑے اور فرمانے لگے کہ درود شریف کثرت سے پڑھا کرو یہی وظیفہ ہے۔(ماخوذ از روایات حضرت نظام الدین صاحب رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 103 غیر مطبوعہ ) پس یہ آج بھی ہمارے لئے ان دنوں میں خاص طور پر یہی وظیفہ ہے اس کو بہت زیادہ پڑھنا چاہئے۔پھر کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بہار کے موسم میں دوستوں کو ساتھ لے کر باغ میں گئے اور خادموں سے کہا کہ توت کی ٹوکریاں بھر کے لاؤ۔چنانچہ دو ٹوکریاں یا پر اتمیں توت اور شہتوت سامنے رکھ دیں۔خود بھی حضور کچھ کھانے لگے۔اس پارٹی میں بہت صحابی نہ تھے ، غالباً پندرہ بیں ہوں گے۔(ماخوذ از روایات حضرت نظام الدین صاحب رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 103 غیر مطبوعہ) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ڈھاب کا کنارہ بھر کر اس جگہ ایک پلیٹ فارم سا بنوایا گیا تھا اور مٹی ڈلوائی گئی تھی، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں آج کل ( اس زمانے کی جو بات کر رہے ہیں ) مرزا مہتاب بیگ صاحب درزی کی دکان ہوتی تھی اور کچھ بک ڈپو اور گلی والی زمین بھی شامل ہو گی۔کہتے ہیں یہاں جلسہ سالانہ ہوا تو مولوی برہان الدین صاحب مرحوم مغفور دوستوں کو اپنے لوہے کے لوٹے سے جو ان دنوں اپنے کندھے پر اٹھایا کرتے تھے ( سماوار ٹائپ چیز ہو گی کوئی اس میں پانی پلاتے رہے تھے۔اب دیکھیں ان کا انداز بھی کیسا پیارا ہے۔کہتے ہیں مولوی صاحب مرحوم پانی پلاتے پلاتے ناچنے لگ گئے اور دوستوں سے کہا کہ پوچھو میں کون ہوں اور کیوں ناچ رہا ہوں ؟ دوستوں