خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 310
خطبات مسرور جلد نهم 310 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء اس اہم بات کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب میں بعض صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض روایات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو رجسٹر روایات صحابہ سے میں نے لی ہیں جن میں مختلف قسم کے مضامین بھی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ عشق و محبت کے واقعات، آپ کی نصائح، صحابہ کے آپ کی نصائح کو سمجھنے کے طریق، آپ کی مہمان نوازی، اس کے جواب میں صحابہ کا رد عمل۔ان باتوں نے صحابہ کی زندگیوں میں ایک انقلاب پیدا کر دیا جس نے اُن کی روحانی تربیت بھی کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے عشق اور محبت کو مزید نکھارا بھی اور بڑھایا بھی۔تو جیسا کہ میں نے کہا بعض واقعات آپ کی بے تکلف مہمان نوازی کے ہیں۔بعض مہمانوں کے صبر اور حوصلے کے ہیں، باتوں باتوں میں ہی بعض علمی مضامین بیان ہوئے ہیں، بعض نصائح بھی ہیں۔پس ان کو غور سے سنیں اور یہ جو ڈیوٹی والے کارکنان ہیں اُن کو بھی ان چیزوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ایک روایت ہے۔حضرت خان صاحب ضیاء الحق صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم تین احمدی اشخاص، یعنی یہ خاکسار ( ضیاء الحق صاحب) اور اُن کے خالہ زاد بھائی سید اکرام الدین صاحب اور اُن کے بہنوئی سید نیاز حسین صاحب مرحوم سونگڑہ سے روانہ ہو کر کلکتہ ہوتے ہوئے ہم قادیان پہنچے۔یہ غالباً 1900ء کا واقعہ ہے۔قریباً دس گیارہ بجے دن کا وقت ہو گیا جب قادیان پہنچے۔اُسی دن نماز ظہر کے وقت مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مسجد میں ملاقات ہوئی اور اُسی دن بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں، یہ کہتے ہیں کہ ، ہم تینوں نے مع دیگر نو وارد حاضرین بیعت کی۔ملاقات کے وقت حضور نے جب میرا نام دریافت فرمایا تو میں نے اپنا نام ضیاء الحق ، ق کو بولتے ہیں جس طرح خاص انداز میں ادا کیا۔تو حضور نے فرما یا ضیاء الحق۔( 'ق کے تلفظ کو چھوٹیک سے بیان فرمایا) تو کہتے ہیں اُس دن یہ سننے کا میرا پہلا موقع تھا کہ پنجاب میں عام بول چال میں 'ق کوک کی طرح بول دیا جاتا ہے۔بہر حال کہتے ہیں حضور نے مولوی محمد احسن صاحب کو فرمایا کہ ان تینوں کو سلسلہ کی کچھ کتابیں پڑھنے کی دی جاویں تو میں نے عرض کیا کہ فتح اسلام اور توضیح مرام اور ازالہ اوہام کتابیں میں نے پڑھ لی ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔پھر تاکید کر دی کہ لنگر خانہ میں ہم تینوں اڑیسہ کے مہمانوں کے لئے چاولوں کا بندوبست کر دیا جائے۔کہتے ہیں ہم قریباً سات دن قادیان میں ٹھہرے اور ہر روز بعد نماز مغرب حضور کے پیر دبانے والوں میں شریک ہوتے تھے ، مگر خدام کی کثرت کی وجہ سے پیر کا کوئی حصہ ملنا دشوار ہو جاتا تھا۔حضور کا پیر خوب مضبوط معلوم ہو تا تھا۔ہر روز صبح شام، صبح بعد ناشتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ سیر میں ہم شریک ہوتے تھے۔حضور خوب تیز چلتے تھے ، حتی کہ بعض ہمراہیوں کو دوڑنا پڑتا تھا۔حضور کی چھتری برداری کا فخر ایک عرب غالباً مولوی ابوسعید صاحب کو ملتا تھا۔کہتے ہیں ایک روز کا ذکر ہے کہ میں نے حضور سے دریافت کیا کہ ہمارے محلے کی مسجد میں ہم کس طرح