خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 309
خطبات مسرور جلد نهم 309 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء اس نئی جگہ پر اس سال جماعت احمدیہ جرمنی جلسہ منعقد کر رہی ہے۔تو جس طرح منہائم میں عمومی طور پر گزشتہ ہمیں پچیس سال کے عرصے میں یا جو بھی عرصہ ہے اس عرصے میں وہاں جلسہ منعقد کر کے وہاں کے شہریوں اور انتظامیہ پر جماعت کا ایک اچھا نیک اثر قائم ہوا ہے، اُس سے بہتر اثر جماعت کا یہاں کے شہریوں اور انتظامیہ پر چھوڑنے کی کوشش کریں تا کہ یہ نیک نمو نے اسلام اور احمدیت کے حقیقی پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔مثلاً یہاں کے ہوٹلوں کو بڑی تعداد میں ایشین لوگوں کو ٹھہرانے کا یہ پہلا موقع ہے تو قدرتی بات ہے کہ آج کل جس طرح بعض مسلمان گروپوں کی طرف سے ، اسلام کا غلط تصور پیش کیا جارہا ہے ہو ٹلوں کے مالکان کو بھی کچھ تحفظات تھے۔لیکن میرے علم میں آیا ہے کہ پولیس نے انہیں تسلی دی ہے کہ ہماری تحقیق کے مطابق یہ ایک پر امن جماعت ہے اس لئے کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔پس ان دنوں میں صرف جلسہ گاہ کے ماحول میں ہی نہیں بلکہ باہر بھی جہاں بھی احمدی رہائش پذیر ہیں یا شہر میں سے گزر کر دوسرے شہروں سے آرہے ہیں وہاں بھی، عمومی طور پر ، بھی ہر جگہ اپنے نیک نمو نے چھوڑیں جو احمدیت کی تبلیغ کا باعث ہوں۔آپ کے ایسے نمونے ہوں جو آپ کے حق بیعت نبھانے کا واضح اظہار کر رہے ہوں۔اگر کوئی زیادتی کرتا بھی ہے تو ایک سچے احمدی کو پلٹ کر وہی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔بعض گزشتہ تجربات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ چند ایک ایسے لوگ بھی ہیں جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں جو بظاہر احمدی ہیں جلسے کے دنوں میں اپنے دنیاوی مقاصد کے لئے آتے ہیں یا بعض دفعہ اپنی پرانی رنجشوں کو دلوں میں بٹھائے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف غلط حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔انتظامیہ تو بہر حال ایسے لوگوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں کرے گی اور نہ کرنی چاہئے، لیکن ایک فریق کی زیادتی سے دوسرے فریق کو بھی صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔اور یہ دن کیونکہ خدا تعالیٰ کی خاطر گزارنے کے لئے آئے ہیں اس لئے اپنے معاملات خدا تعالیٰ پر چھوڑ نے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہوئے۔پس اس احسان کی قدر کرنا ہر بچے احمدی کا فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ اس جماعت میں شمولیت اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے قومیں تیار ہو رہی ہیں تو اس بات کو پر انے احمدیوں کو بھی ایک فکر کے ساتھ لینا چاہئے۔اس جلسے میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی نئے شامل ہونے والے احمدی مختلف ممالک سے شامل ہو رہے ہیں۔اُن کی نظروں میں، اُن کی حرکات میں ایک اخلاص اور وفاٹپک رہا ہوتا ہے۔پس جو پرانے احمدی ہیں اُن کو ایک فکر اپنے ایمان کے لئے بھی کرنی چاہئے اور اُن کے لئے بھی نمونے قائم کرنے چاہئیں۔یہ نہ ہو کہ نئی قو میں آکر اور حقیقی مسلمان بن کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بن جائیں اور پرانے احمدی خاندان دنیا میں ڈوب کر ، اپنی اناؤں میں ڈوب کر ، اُن فضلوں سے محروم ہو جائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وابستہ ہیں۔پس اس سوچ کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ یہ دن گزاریں۔