خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 304
304 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کرنے کی کوشش ہو۔پس یہ مدارج حاصل کرنے کے لئے ہم نے کوشش کرنی ہے اور جب ہم یہ کوشش کریں گے تو حقیقت میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے مضمون کو سمجھنے والے ہوں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو بھی پورا کرنے والے ہوں گے۔ورنہ یہ دعا بھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے طوطے کی طرح رٹے ہوئے الفاظ ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ”خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملے میں اگر کوئی حصہ کھوٹ کا ہو گا تو اسی قدر اُدھر سے بھی ہو گا۔“ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملے میں کھوٹ ہو گی تو اللہ تعالیٰ کھوٹ تو نہیں کرتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کھوٹ کو سمجھتا ضرور ہے اس لئے جو تم سمجھتے ہو کہ معاملے میں کھوٹ کر جاؤ گے ، دھو کہ دے دو گے ، اُس دھو کہ کی وجہ سے تمہیں اجر نہیں ملے گا۔اللہ تعالیٰ تو ہر چیز جانتا ہے۔فرماتے ہیں ”مگر جو اپنا دل خدا سے صاف رکھے اور دیکھے کہ کوئی فرق خدا سے نہیں ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس سے کوئی فرق نہ رکھے گا۔انسان کا اپنا دل اُس کے لئے آئینہ ہے۔وہ اس میں سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔پس سچا طریق دُکھ سے بچنے کا یہی ہے کہ سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو اور وفاداری اور اخلاص کا تعلق دکھاؤ اور اس راہ بیعت کو جو تم نے قبول کی ہے سب پر مقدم کرو کیونکہ اس کی بابت تم پوچھے جاؤ گے“۔(ملفوظات جلد 3 صفحہ 63) پس اپنے نفس کا محاسبہ ضروری ہے۔دنیا میں اربوں مسلمان ہیں۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا پڑھتے ہیں، لیکن کیونکہ طوطے کی طرح آئے ہوئے الفاظ پڑھنے والا معاملہ ہے اس لئے نمازوں کے بعد اُن کی فتنہ وفساد کی طرف بھی توجہ ہوتی ہے۔بعض کے منہ سے جماعت کے خلاف مغلظات ہی نکلتی ہیں۔مسجدوں میں کھڑے ہو کر مغلظات ہی سکتے ہیں۔یا آپس کے فتنوں میں پڑے ہوئے ہیں۔کیا یہ وہ صراط مستقیم ہے جس کی دعا سکھائی گئی ہے؟ یقینا نہیں۔ہمارے سامنے تو اس صراط مستقیم کے راستے ہیں جو جانوروں کی حرکات چھوڑ کر انسان بنانے والی تھیں۔اور پھر تعلیم یافتہ انسان بنانے والی تھیں اور پھر وہ تعلیم یافتہ انسان با خدا انسان بنے۔تو یہ نمونے ہمارے سامنے کوئی قصہ کہانی کے رنگ میں نہیں ہیں کہ آئے اور ہم نے قصے سن لئے اور کہانیاں سُن لیں بلکہ ہمارے سامنے یہ نمونے ہمیں عمل کرنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہیں۔اور انہی باتوں کی طرف اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سے بیعت لی ہے۔پس اس جذبے کو اپنے اندر قائم رکھتے ہوئے، قرآنی تعلیم پر عمل کر کے ہی ہم راہ بیعت کو مقدم رکھ سکتے ہیں۔ورنہ خدا تعالیٰ صرف اس بات پر خوش نہیں ہو گا کہ ہم اهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ کے الفاظ کروڑوں دفعہ پڑھتے اور دہراتے رہیں۔بلکہ یہ کوشش اور روح کی گہرائی سے نکلے ہوئے الفاظ جو اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر چلنے اور قائم رہنے کی دعا اور مددمانگ رہے ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والے بنیں گے۔ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تم پوچھے جاؤ گے کہ تمہارا دعویٰ تو کچھ