خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 303
خطبات مسرور جلد نهم 303 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جون 2011ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تو کسی کی قوتِ قدسی اس دنیا کے کسی انسان میں نہیں ہو سکتی۔آپ کا کاتب وحی یا آج کل کے زمانے میں کہنا چاہئے سیکرٹری، جو نوٹس لیتے تھے ، اس قدر انہوں نے قربت کا مقام پایا کہ ہر وقت وحی لکھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس کو یاد فرماتے تھے۔یہ مقام ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو اس پر اعتماد تھا، آپ کو اُس پر اعتبار تھا۔دوسرے مسلمانوں کی نظر میں بھی عبد اللہ بن ابی سرح کاتب وحی کا مقام یقینا ہو گا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھتا ہے۔لیکن انجام کیا ہوا؟ اُسے ٹھو کر لگی اور اپنے اہم مقام سے گرا دیا گیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی بعض ایسے لوگ تھے جو عشق و محبت میں بڑھے ہوئے تھے، جب ان کی بد بختی نے ان کو ٹھوکر لگائی تو وہ آپ کے اشد ترین مخالفین میں ہو گئے۔آپ پر نہایت گندے اور گھٹیا الزام لگانے لگ گئے۔ہر روز نئے نئے اعتراض کرنے لگ گئے۔پس انجام بخیر ہونے کے لئے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا بھی بہت ضروری ہے۔اس پر غور کریں اور پڑھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: انسانی زندگی کا مقصد اور غرض صراط مستقیم پر چلنا اور اس کی طلب ہے جس کو اس سورۃ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔یا اللہ ! ہم کو سیدھی راہ دکھا اُن لوگوں کی اور جن پر تیرا انعام ہوا۔یہ وہ دعا ہے جو ہر وقت ہر نماز اور ہر رکعت میں مانگی جاتی ہے۔اس قدر اس کا تکرار ہی اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے“۔(آپ فرماتے ہیں ) ”ہماری جماعت یاد رکھے کہ یہ معمولی سی بات نہیں ہے۔اور صرف زبان سے طوطے کی طرح ان الفاظ کا رٹ دینا اصل مقصود نہیں ہے بلکہ یہ انسان کو انسان کامل بنانے کا ایک کار گر اور خطا نہ کرنے والا نسخہ ہے جسے ہر وقت نصب العین رکھنا چاہیئے اور تعویذ کی طرح مڈ نظر رہے“۔آپ نے فرمایا کہ اس دعا سے مخلوق کا بھی، انسان کا بھی حق ادا ہو جائے گا اور جو انسانی طاقتیں انسان کو دی گئی ہیں اُن کا بھی حق ادا ہو جائے گا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ " غرض منعم علیہم لوگوں میں جو کمالات ہیں اور صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ان کو حاصل کرناہر انسان کا اصل مقصد ہے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی تاکہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے“۔(الحلم 31 مارچ1905ءجلد 9نمبر 11 صفحہ 5-6) یہ بہت بڑا کام ہے۔ایک اعزاز تو ہے لیکن بہت بڑا کام ہے ، بہت بڑی ذمہ واری ہے جماعت کے ہر فرد پر کہ قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر ہر احمدی کو گواہ ٹھہر نا چاہئے۔پس ہر احمدی قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت پر تبھی گواہ ٹھہر سکتا ہے جب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا پڑھتے ہوئے ترقی کے مدارج طے کرتا جائے اور انعام یافتہ لوگوں کے معیار حاصل کرتا چلا جائے۔قرآنِ کریم کی تعلیم کے ہر پہلو کو اپنی زندگی کا حصہ بنالے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل