خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 25
خطبات مسرور جلد نهم 25 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جنوری 2011ء جس ہستی کے قتل کے ارادے سے میں نکلا تھا اس کے اس دست شفقت نے میرے دل میں اس کی محبت کے دریا بہا دیئے۔پس یہ تھا میرے آقا کا اپنے دشمنوں سے سلوک۔مجرم پکڑا جاتا ہے تو اسے بجائے سزا دینے کے محبت کے تیر سے اس طرح گھائل کرتے ہیں کہ وہ آپکی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔کیا کوئی اور اس شفقت اور عفو کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی علم تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔پس ان نمونوں پر چلنا ان کی طرف توجہ دینا آج کے مسلمانوں کا بھی فرض ہے۔کاش کہ ان کو سمجھ آجائے۔ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ا تم کو جن بھی دو معاملات میں سے ایک کو اختیار کرنے کی اجازت دی گئی، آپ نے اُن میں سے آسان ترین کو اختیار فرمایا سوائے اس کے کہ اسے اختیار کرنا گناہ ہو تا۔اور اگر اسے اختیار کرنا گناہ ہو تا تو آپ اس سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ دور بھاگنے والے ہوتے۔اور رسول اللہ صلی علیکم نے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا سوائے اس کے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود میں ناجائز طریق سے داخل ہو تا تو آنحضور صلی ال یکم اس کو اللہ تعالیٰ کی خاطر سزا دیتے۔(بخاری کتاب المناقب باب صفة النبى حديث نمبر 3560) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں روایت ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ دورانِ گفتگور سول اللہ الا ملک کو مخاطب کر کے عرض کی کہ یارسول اللہ ! میرے والدین آپ پر قربان جائیں۔حضرت نوح نے اپنی قوم کے خلاف بد دعا کی تھی اور یہ دعا کی تھی کہ رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا (نوح:27)۔اے میرے رب ! کافروں میں سے کسی کو زمین پر بستا ہوا نہ رہنے دے۔یارسول اللہ ! اگر آپ حضرت نوح کی طرح ہمارے لئے بد دعا کرتے تو ہم سب کے سب تباہ ہو جاتے۔آپ کی کمر کو لتاڑا گیا۔آپ کے چہرے کو خون آلود کیا گیا۔آپ کے سامنے کے دانت توڑے گئے مگر آپ نے صرف خیر کی بات ہی کی اور آپ نے یہ دعا کی کہ اللهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِن فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔اے اللہ میری قوم کو بخش دے، ان کو معلوم نہیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔(الشفاء لقاضی عیاض جزء اول صفحه 73 الباب الثانى فى تكميل الله تعالى۔۔الفصل و اما الحلم دار الكتب العلمية بيروت (2002ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : حضرت خاتم الانبیاء صلی علیم نے مکہ والوں اور دوسرے لوگوں پر بکلی فتح پا کر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر ان کا گناہ بخش دیا۔اور صرف انہیں چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہو چکا تھا۔اور بجز ان از لی ملعونوں کے ہر یک دشمن کا گناہ بخش دیا اور فتح پاکر سب کو