خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 302

خطبات مسرور جلد نهم 302 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2011ء یہاں آپ میں سے بھی کئی لوگ ہیں جن میں سے بعض کا مجھے علم ہے جو اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں، بعض ایسے ہیں جن کا علم نہیں ہے۔باہر وہ بڑے اچھے ہیں، لوگوں کی نظر میں انتہائی شریف اور راہ ہدایت پر قائم ہیں لیکن اپنے گھروں کے معاملات میں صراطِ مستقیم سے ہٹے ہوئے ہیں۔اپنے اہل سے حسن سلوک کرنا، اپنے گھر والوں سے حسن سلوک کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر یہ بیان فرما کر کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل سے اچھا ہے، آخر میں اپنی مثال دی کہ میں تم میں سب سے زیادہ اپنے اہل سے حسن سلوک کرنے والا ہوں۔(سنن ابن ماجه كتاب النكاح باب حسن معاشرة النساء حديث 1977) یہ ایک ایسا عمل ہے جو معمولی عمل نہیں ہے۔اس عمل کی اہمیت بتانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثال پیش فرمائی ہے۔پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقیم کی دعا ہر کام کو سامنے رکھتے ہوئے مومن کو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نیکیوں کے معیار بڑھتے چلے جائیں اور جب موت آئے تو وہ خالص فرمانبرداری کی موت ہو۔پس ایک حقیقی مومن وہ ہے جو امام الزمان کو مان کر ہر وقت اپنی نیکیوں کے معیار کو بلند سے بلند تر کرنے کی کوشش میں لگا رہے۔ہر وقت اپنے ایمان میں ترقی کے لئے کوشاں رہے۔اللہ سے یہ دعا مانگے کہ جس صراط مستقیم پر تو نے مجھے قائم فرما دیا ہے اس میں میرے قدم ترقی کی طرف بڑھیں۔ہر وقت اس کوشش میں ہو کہ تقویٰ میں ترقی کرنے والا ہو۔جو تقویٰ میں ترقی کرتا ہے وہ ہر وقت خدا تعالیٰ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتا ہے اور جس کے دل میں خد اتعالیٰ کا خوف پیدا ہو جائے وہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں ترقی کرنے کے لئے بھی کوشش اور دعا کرتا ہے اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے بھی کوشش اور دعا کرتا ہے۔ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر قائم رہنے کی دعا کرتا ہے وہ خدمت دین کی خواہش میں بھی ہر روز بڑھتا ہے اور خالص ہو کر خدمتِ دین کرنے والا ہو تا ہے۔اور نہ صرف خواہش میں بڑھتا ہے بلکہ اس کے لئے ہر وہ عمل، ہر قدم جو اس عمل کی طرف وہ اُٹھاتا ہے جس کی خدا اور اُس کے رسول نے ہدایت فرمائی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اُٹھاتا ہے۔پس ایک حقیقی مومن کو اُن لوگوں کی طرح نہیں بننا چاہئے جو اپنے زعم میں اپنے آپ کو نیک اور پارسا سمجھتے ہیں، جو اپنے زعم میں اپنے آپ کو کسی مقام پر پہنچا ہوا سمجھتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کو کوئی مستقل مقام مل گیا ہے یا ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں وہ محفوظ ہو گئے ہیں۔جب کبھی انسان کو یہ خیال آیا چاہے وہ کتنا بھی پار سا ہو تو سمجھو کہ روحانی لحاظ سے وہ مارا گیا اور شیطان کے شکنجے میں آگیا۔پس ہمیشہ اپنا محاسبہ کرنا اور پھر اگلی منزل کی طرف قدم بڑھانا ہی ایک مومن کا شیوہ اور شان ہے۔جس نے اپنے زعم میں اپنی منزل کو پا لیا۔جماعت کی تھوڑی سی خدمت کر کے اُس پر فخر ہو گیا۔جماعتی خدمات کو ، اپنی عبادات کو کافی سمجھ کر حقوق العباد کی طرف سے توجہ پھیر لی اگر وہ کسی مقام پر پہنچا بھی ہو تو ایک وقت میں اپنے اس عمل کی وجہ سے وہ مقام کھو دیتا ہے۔اس لئے ایک حقیقی مومن صرف اپنے آج کے نیک عمل کو نہیں دیکھتا بلکہ اپنے انجام کی طرف دیکھتا ہے اور انجام بخیر ہونے کی دعا کرتا ہے۔