خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 298

298 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بلکہ لامذہبوں اور اس سے بھی بڑھ کر خدا تعالیٰ کو نہ ماننے والوں کو بھی ہدایت عطا فرمارہا ہے ، ہدایت کے راستوں کی طرف رہنمائی فرمارہا ہے۔اور ان لوگوں میں سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔لیکن بد قسمتی سے نام نہاد اور مفاد پر ست ملاؤں کے پیچھے چل کر بعض جگہ مسلمان کہلانے والوں نے امام الزمان کی دشمنی کی انتہا کی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان لوگوں کو عقل دے۔علماء جو نام نہاد علماء ہیں وہ تو ایسے حال پر پہنچے ہوئے ہیں کہ لگتا ہے اُن کے لئے بظاہر اصلاح کے سب ذریعے بند ہو چکے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو معصومیت میں یا اپنے خیال میں عشق رسول میں ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اُن کو اللہ تعالیٰ صحیح راستوں کی طرف ہدایت عطا فرمائے تا کہ وہ امام کو پہچا نہیں۔اور جو دشمنی وہ اس زمانہ کے امام سے کر رہے ہیں، جس کی بعض جگہوں پر انتہائی حدوں کو چھوا جا رہا ہے، اُس سے وہ باز آجائیں اور اپنی عاقبت سنوار نے والے بن جائیں۔کاش اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا مسلمانوں کے دل کی آواز بن کر نکلے اور مسلم امت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنے۔اور دنیا ان کو بھی عزت اور تکریم کی نظر سے دیکھنے والی ہو۔ایک جگہ اس یعنی اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی آیت کی وضاحت فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف نے جیسا کہ جسمانی تمدن کے لئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ ایک بادشاہ کے زیر حکم ہو کر چلیں۔یہی تاکید روحانی تمدن کے لئے بھی ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ یہ دعا سکھلاتا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحه: 6-7)۔پس سوچنا چاہئے کہ یوں تو کوئی مومن بلکہ کوئی انسان ، بلکہ کوئی حیوان بھی خدا تعالیٰ کی نعمت سے خالی نہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان کی پیروی کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے۔لہذا اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اکمل اور اتم طور پر نعمت روحانی کی بارش ہوئی ہے ان کی راہوں کی ہمیں توفیق بخش کہ تاہم ان کی پیروی کریں۔سو اس آیت میں یہی اشارہ ہے کہ تم امام الزمان کے ( ضرورة الامام ، روحانی خزائن جلد نمبر 13 صفحہ 494) ساتھ ہو جاؤ“۔امام الزمان کی تعریف آپ نے یہ فرمائی کہ وہ رسول بھی ہوتے ہیں اور وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالی دنیا کی ہدایت کے لئے مامور فرمائے۔پس اس زمانے میں جیسا کہ میں نے کہا قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق امام الزمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق مسیح موعود و مہدی معہود ہی ہیں جو اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انعام لے کر مبعوث ہوئے ہیں۔اس لئے وہ انعام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے تا قیامت جاری رہنا ہے ، اب آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے سے جاری رہنا ہے۔اور جیسا کہ آپ نے فرمایا یہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ مجڑ کر ہی دوسروں کو مل سکتا ہے۔