خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 299
خطبات مسرور جلد نهم 299 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 جون 2011ء آج سے چودہ سو سال پہلے جو نعمت جاری ہوئی اُس سے آپ کے صحابہ نے خوب فیض پایا۔ہر وقت اس فکر میں رہتے کہ کس طرح ہم زیادہ سے زیادہ اپنے ایمانوں میں تازگی پیدا کریں۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا وِرد ان کی زبانوں پر ہو تا تھا۔نماز پڑھتے تھے تو ہر ہر لفظ اور دعا اُن کے دل کی گہرائیوں سے نکلتی تھی۔ایک ایسار شتہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قائم فرمایا تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔اور پھر خدا تعالیٰ نے بھی اُن کو ایسا نوازا کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کا خطاب اور اعزاز انہوں نے پایا۔پس اس نعمت کو حاصل کرنے کے لئے اور ہدایت پر قائم رہنے کے لئے صراط مستقیم پر ہمیشہ چلتے چلے جانے کے لئے جب ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مانتے ہوئے اس زمانے کے امام اور مسیح و مہدی کو مانا ہے تو پھر اس سے ایسا تعلق ہمیں جوڑنا ہو گا جو ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنائے اور جب کہ ہم نے خود بیعت کے وقت یہ عہد کیا ہے کہ اس رشتے کو ہم سب سے سوا رکھیں گے ، سب رشتوں پر فوقیت دیں گے۔جیسا کہ دسویں شرط بیعت میں درج ہے۔وہ شرط یہ ہے: یہ کہ اس عاجز سے ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے) عقد اخوت محض اللہ با قرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہو گا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو“۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ نمبر 160) پس صرف بیعت کر کے ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ہماری اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا قبول ہو گئی یا اللہ تعالیٰ نے ہمارے بزرگوں کی اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا قبول کر لی اور ہمیں اپنے فضل سے اُن کے گھروں میں پیدا کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں زمانے کے امام کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرما دی، یہ کافی نہیں ہے۔اب جب ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس امام کو مان لیا ہے تو ہمیں آگے قدم بھی بڑھانے ہوں گے۔بلکہ اب پہلے سے بڑھ کر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی دعا کی طرف توجہ کی ضرورت ہے کہ یہ عہد جو طاعت در معروف کا ہم نے باندھا ہے اس پر اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ قائم رکھے۔ہم صراط مستقیم پر ہمیشہ چلتے چلے جانے والے ہوں۔اور ہم اس قرآنی حکم پر عمل کرنے والے ہوں کہ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (البقرة : 133) پس ہر گز نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم فرمانبردار ہو۔انسان پر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو وہ کبھی اپنی کوشش سے کامل اطاعت اور فرمانبرداری نہیں دکھا سکتا۔اُسے پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر وقت متوجہ رکھنے کے لئے یہ دعا سکھا دی ہے۔اور ہر نماز میں اور ہر نماز کی ہر رکعت میں یہ حکم دیا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کو سامنے رکھو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہدایت دینے والا ہے۔اپنے نفسوں کا محاسبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں قائم رکھتے ہوئے اس سے راہِ ہدایت پر قائم رہنے کی دعا کرتے چلے جاؤ۔اس کے بغیر یہ بہت مشکل ہے کہ انسان کسی سے ایسا تعلق رکھے جو کسی اور خادمانہ حالت میں پائی نہ جاتی ہو۔ایسا تعلق ہو جو کسی بھی اور رشتے میں پایا نہ جاتا ہو۔ایسا تعلق ہو جس میں کامل اطاعت ہو اللہ تعالی کے