خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 295
295 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم منہاج نبوت کی خوشخبری دی۔پھر آپ نے خاموشی فرمائی۔پس مجددیت کی ضرورت جس نے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی پاکر اپنے محدود دائرے میں تجدید دین کرنی ہے یا کرنی تھی تو وہ اس وقت تک تھی جب تک کہ مسیح موعود کا ظہور نہ ہوتا۔جب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ظہور ہو گیا جو چودھویں صدی کے مجد د بھی ہیں اور آخری ہزار سال کے مجدد بھی ہیں تو پھر اس نظام نے چلنا تھا جو خلافت علی منہاج نبوت کا نظام ہے۔اور جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وہ زبر دست قدرت ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی طرف مختلف روحوں کی رہنمائی بھی فرماتا رہتا ہے۔اُن لوگوں کو جن کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ مختلف مذہبوں سے تعلق رکھنے والے ہیں، رؤیا میں اُن کو خلفاء کو دکھا کر اس بات کی تائید فرماتا ہے کہ اب نظام خلافت ہی اصل نظام ہے اور اس کے ساتھ جڑ کر ہی تجدید دین کا کام سر انجام پانا ہے۔کیونکہ نہ ہی قرآنِ کریم میں اور نہ ہی حدیث میں کہیں مسجد دوں کا ذکر ملتا ہے ہاں خلافت کا ذکر ضرور ملتا ہے جس کا گزشتہ جمعہ سے پہلے 27 مئی کے خطبہ میں جیسا کہ میں نے کہا میں نے آیت استخلاف کے حوالے سے ذکر بھی کیا تھا۔پس مجددیت اب اُس خاتم الخلفاء اور آخری ہزار سال کے مجدد کے ظہور کے بعد اُس کے ظل" کے طور پر ہو گی اور حقیقی ظل" جو ہے وہ نظام خلافت ہے۔اور وہی تجدید دین کا کام کر رہی ہے اور کرے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔پس اس بحث میں پڑنے کی بجائے کہ اگلی صدی کا مجد د کب آئے گا اور آئے گا کہ نہیں آئے گا یا آسکتا ہے یا نہیں آ سکتا ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی پر پختہ یقین پیدا کرتے ہوئے آپ کے مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔اپنی اصلاح کی طرف نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے اور اپنی نسلوں کی اصلاح کی طرف نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔اپنے آپ کو بھی بدعات سے بچانے کی ضرورت ہے اور اپنی نسلوں کو بھی بدعات سے بچانے کی ضرورت ہے۔حقیقی اسلامی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی ضرورت ہے اور اُسے پھیلانے کی ضرورت ہے۔اس زمانے میں اشاعت کا کام مختلف ذریعوں سے بھی ہو رہا ہے۔کتابوں کی رسالوں کی صورت میں بھی اور ٹی وی چینل کے ذریعے سے بھی، اور اسی وجہ سے ہمارے اوپر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ اس کام کو آگے بڑھائیں۔اس کام کو بجالانے کی طرف ہمیں بھر پور توجہ دینی چاہئے۔اسلام میں جو بدعات اور غلط تعلیمات داخل ہو گئی ہیں انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دُور فرمایا ہے اور خلافتِ احمد یہ اسی کام کو آگے بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔پس اس طرف ہر احمدی کو بھی پوری طرح توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ابھی کل یا پرسوں کی ڈاک میں میں دیکھ رہا تھا کہ ایک عرب نے لکھا کہ ملاؤں کے عمل اور مختلف قسم کی بدعات اور غلط تعلیمات اور نظریات سے میرا دل بے چین تھا، اتفاق سے مجھے ایم۔ٹی۔اے کا چینل مل گیا اُس پر اسلام کی حقیقی تعلیمات دیکھیں، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ وفات یافتہ ہیں نہ کہ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں تو پھر یہ باتیں ئن کر دل کو تسلی ہوئی۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ کیونکہ میر اول پہلے ہی اس بات کو نہیں مانتا تھا کہ کوئی شخص دو ہزار سال سے زندہ آسمان پر موجود ہو۔اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ پس میں جماعت میں شامل ہو تا ہوں۔تو یہ چیزیں ہیں جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے سے دنیا کو پتہ لگ رہی