خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 292
292 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم چاہے گا نبوت قائم رہے گی، پھر جب وہ چاہے گا اُس کو اُٹھا لے گا اور پھر جب تک اللہ چاہے گا خلافت علی منہاج النبوۃ قائم رہے گی۔پھر وہ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اُٹھالے گا۔پھر ایذارساں بادشاہت جب تک اللہ چاہے گا قائم ہو گی۔پھر جب وہ چاہے گا اُس کو اُٹھا لے گا۔پھر اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی، جب تک اللہ چاہے وہ رہے گی۔پھر جب وہ چاہے گا اُس کو اُٹھالے گا۔اُس کے بعد پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہو گی، پھر آپ خاموش ہو گئے۔(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر 6 مسند النعمان بن بشیر صفحہ 285 حدیث نمبر 18596 عالم الكتب بيروت 1998) پس خلافت علی منہاج نبوت قائم ہو جائے گی تو یہی حقیقت میں تجدید دین کا کام کرنے والی ہو گی۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ ہیں کہ ”میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں، اور میرے بعد بعض اور وجو د ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔“ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 306) اور دوسری قدرت کی مثال آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُنہیں کھڑا کر کے اللہ تعالیٰ نے دوسری قدرت کا نمونہ دکھایا۔پس آپ جو آخری ہزار سال کے مجدد ہیں آپ کے ذریعہ سے حدیث کے مطابق خلافت علی منہاج نبوت قائم ہو گی۔تو خلافت ہی اُس کام کو آگے چلائے گی جو تجدید دین کا کام ہے، جو مجدد کا کام ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تربیت، اصلاح، تبلیغ کے کام جو ہیں خلافت کے ذریعہ سے ہو رہے ہیں اور گزشتہ ایک سو تین سال سے ہم دیکھ رہے ہیں۔پس عین ممکن ہے کہ آئندہ صدیوں میں بھی اس حدیث کے مطابق بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا ہے کوئی مجد د ہونے کا اعلان کرے لیکن اس کی شرط یہی ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تابع ہو۔اور اُس دوسری قدرت کا مظہر ہو جس کا اعلان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔پس اگر کبھی دو صدیوں کے سنگم پر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایسے مجدد کا مقام کسی بھی خلیفہ کو دے سکتا ہے۔جو اُس وقت کا خلیفہ ہو گا، وہ اُس سے اعلان کروا سکتا ہے۔کیونکہ ایسے مجددین بھی اُمت میں پیدا ہوتے رہے ہیں جن کی وفات کے بعد پھر لوگوں نے کہا کہ مجد د تھے۔سو ضروری نہیں کہ مجدد کا اعلان بھی ہو۔لیکن اگر اللہ چاہے تو مجدد کا اعلان اُس خلیفہ سے کروا سکتا ہے کہ میں مجدد ہوں۔لیکن یہ بھی واضح ہو کہ ہر خلیفہ اپنے وقت میں مجد دہی ہوتا ہے کیونکہ وہ اُسی کام کو آگے بڑھا رہا ہے جو نبی کا کام ہے ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام ہے۔چاہے وہ مجد د ہونے کا اعلان کرے یا نہ کرے کیونکہ مجدد ہونے کے اعلان سے یا مجدد ہونے سے خلافت کا مقام نہیں بنتا۔بلکہ خلافت کا مقام پہلے ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر خلیفہ مجدد ہوتا ہے۔مجدد کا مطلب ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے بدعات کا خاتمہ کرنے والا، اصل تعلیم کو جاری رکھنے والا، اصلاح کی کوشش کرنے والا، تبلیغ اسلام کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہوئے اُس کو آگے پھیلانے والا۔پس یہ کام تو خلافت احمد یہ کے تحت ہو ہی رہا ہے۔بلکہ یہ کام تو خلافت کے نظام کے تحت مستقل مبلغین کے علاوہ بہت سے احمدی بھی اپنے دائرے میں کر