خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 274
خطبات مسرور جلد نهم 274 22 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 03 جون 2011ء بمطابق 03 احسان 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ غلام صادق ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے دنیا میں بھیجا۔آپ کا جو کچھ بھی ہے وہ آپ کا نہیں بلکہ آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے۔اور جو کچھ بھی آپ نے فیض پایا آپ کی غلامی سے پایا۔آپ ایک جگہ ”رسالہ الوصیت“ میں فرماتے ہیں کہ : نبوت محمدیہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے۔اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے۔“ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 311) پس آپ نے یہ فیض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پایا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پیروی کی وجہ سے اُس مقام تک پہنچایا جو نبوت کا مقام ہے۔لیکن آپ نے فرمایا کہ صرف کامل پیروی بھی کافی نہیں ہے یا کامل پیروی کی وجہ سے انسان نبی نہیں بن جاتا کیونکہ اس میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے۔ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ جب جمع ہوتے ہیں، دونوں کا اجتماع جو ہے ، اس پر وہ صادق آسکتی ہے ، کیونکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک نہیں بلکہ نبوت کی چمک اس فیضان سے زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔پس اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے کی وجہ سے اور آپ کی کامل پیروی اور عشق کی وجہ سے نبوت کا مقام اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا۔یعنی نبوت کا مقام امتی ہونے کی وجہ سے ملا اور اس عشق کی وجہ سے ملا۔اُمتی ہونا ایک لازمی شرط ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی تائیدات سے نواز کر آپ کے حق میں نشان دکھا کر ایک دنیا کی توجہ آپ کی طرف پھیری اور یہ سلسلہ جو آپ کے دعویٰ سے شروع ہوا آج تک چل رہا ہے اور نیک طبع اس جاری فیض سے فیض پارہے ہیں اور آپ کی بنائی ہوئی جماعت میں، آپ کی بنائی ہوئی کشتی میں سوار ہو رہے ہیں۔لیکن یہاں بھی اپنے آقا کی پیروی میں جو فیض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حاصل ہوا، اس سے وہی فائدہ اُٹھا رہا ہے جو آپ کے بعد اللہ تعالیٰ