خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 273

273 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کے لئے جنہوں نے اعلیٰ ترین معیار کے حصول کے لئے کوشش کی اور اُس مالی نظام کا حصہ بنے جو آپ نے جاری فرمایا تھا، اور جس کا اعلان آپ نے فرمایا تھا کہ جو اپنی آمد اور جائیدادوں کی وصیت کریں گے ، اس سے ترقی اسلام اور اشاعت علم قرآن اور کتب دینیہ اور سلسلہ کے واعظوں کے لئے خرچ ہوں گے۔آپ نے فرمایا ان اموال میں سے ان خرچوں کے علاوہ ان یتیموں اور مسکینوں اور نو مسلموں کا بھی حق ہو گا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں“۔(رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 319) آپ نے فرمایا کہ مجھے یقین ہے یہ اموال جمع ہوں گے اور کام جاری ہوں گے کیونکہ یہ اُس خدا کا وعدہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔آپ نے ایسے لوگوں کو جو اس وصیت کے نظام میں شامل ہوں گے اور دین اور مخلوق کی مالی اعانت کریں گے ، دعاؤں سے بھی نوازا۔یہ وصیت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو مقبرہ موصیان یا بہشتی مقبرے میں دفن ہوں گے فرمایا: ”اے میرے قادر کریم! اے خدائے غفور و رحیم ! تو صرف ان لوگوں کو اس جگہ قبروں کی جگہ دے جو تیرے اس فرستادہ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور کوئی نفاق اور غرض نفسانی اور بدظنی اپنے اندر نہیں رکھتے اور جیسا کہ حق ایمان اور (رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 317) اطاعت کا ہے بجالاتے ہیں“۔پس جو لوگ نظام وصیت میں شامل ہیں اُن کے ایمان، اطاعت اور قربانیوں کے معیار بھی ہمیشہ بڑھتے چلے جانے چاہئیں۔انہوں نے ایک عہد کیا ہے۔اس لئے وصیت کرنے کے بعد پھر تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش بھی پہلے سے زیادہ ہونی چاہئے۔خلافت سے وفا کا تعلق بھی پہلے سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔خدا تعالیٰ ہر احمدی کو اس میں ترقی کرتے چلے جانے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔نظام خلافت کے الہی وعدوں سے فیض پانے کی ہر احمدی کو توفیق ملتی رہے تا کہ یہ نظام ہمیشہ جاری رہے اور ہم اس سے فیض پاتے چلے جائیں۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 17 جون تا 23 جون 2011 ، جلد 18 شماره 24 صفحہ 5 تا 9)