خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 21

خطبات مسرور جلد نهم 21 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جنوری 2011ء اپنے باپ کی گردن اڑا دوں۔کیونکہ اگر کسی اور نے اسے قتل کیا یا سزا دی تو پھر کہیں میری زمانہ جاہلیت کی رگ نہ پھڑک اٹھے اور میں اس شخص کو قتل کر دوں جس نے میرے باپ کو قتل کیا ہو۔تو آپ نے فرمایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔کسی قسم کی کوئی سزا دینے کا میں ارادہ نہیں رکھتا۔بلکہ فرمایا کہ میں تمہارے باپ کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کروں گا۔نہ صرف یہ کہ سزا نہیں دوں گا بلکہ نرمی اور احسان کا معاملہ کروں گا۔(السيرة النبوية لابن هشام غزوہ بنی المصطلق، طلب ابن عبدالله بن أبى ان يتولى قتل ابيه۔۔۔۔۔۔صفحه 672 دارالکتب العلمية بيروت ایڈیشن 2001ء) پھر یہی سفر تھا جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا غلطی سے پیچھے رہ گئی تھیں۔جب قافلہ نے اپنی جگہ سے کوچ کیا تو بعد میں ایک صحابی نے ، جو قافلہ چلے جانے کے بعد میدان کا جائزہ لے رہے تھے کہ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی ، آپ کو دیکھا۔حضرت عائشہ اس وقت سوئی ہوئیں تھیں تو انا للہ پڑھا جس سے آپ کی آنکھ کھل گئی۔آپ نے فوراً اپنے اوپر چادر اوڑھ لی۔اُن صحابی نے اپنا اونٹ لا کر پاس بٹھا دیا اور آپ اس اونٹ پر بیٹھ گئیں۔جب یہ لوگ قافلے سے ملے ہیں تو انہی منافقین نے حضرت عائشہ کے بارہ میں طرح طرح کی افواہیں پھیلانا شروع کر دیں۔غلط قسم کے الزام ( نعوذ باللہ ) حضرت عائشہ پر لگائے گئے۔آپ صلی علیہ تم کو یہ باتیں سن کر بڑی بے چینی تھی۔حضرت عائشہ پر الزام لگانا اصل میں تو آنحضرت صلی علی علم کو ہی نقصان پہنچانے والی بات تھی یا کوشش تھی۔جب یہ واقعہ ہو گیا اور مدینہ پہنچ گئے تو ایک دن آپ نے مسجد میں تشریف لا کر تقریر فرمائی اور فرمایا جس کا ایک پہلا فقرہ یہ تھا کہ مجھے میرے اہل کے بارہ میں بہت دُکھ دیا گیا ہے۔لیکن آپ نے منافقین کے ان الزامات کو برداشت کیا۔(بخاری کتاب المغازى باب حديث انك حديث نمبر 4141) اور جنہوں نے یہ الزام لگائے تھے ان کو فوری سزا نہیں دی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب حضرت عائشہ کی بریت کی وحی ہوئی تو تب بھی ان لوگوں کو کوئی سزا نہیں دی جن کے بارہ میں یہ پتہ تھا کہ الزامات لگا رہے ہیں بلکہ عفو سے کام لیا۔بلکہ روایات میں آتا ہے جب عبد اللہ بن ابی فوت ہوا تو اس کے بیٹے نے ) جو ایک مخلص مسلمان تھا جیسا کہ میں نے کہا) آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ آپ اپنا کرتہ مجھے عنایت فرمائیں تاکہ اس کرتے میں میں اپنے باپ کو دفناؤں، کفناؤں۔آپ نے وہ کرتہ عطا فرمایا۔بلکہ آپ کی شفقت اور عفو کا یہ حال تھا کہ آپ اس کے جنازہ کی نماز کے لئے بھی تشریف لائے اور جنازہ پڑھایا۔قبر پر دعا کرائی۔حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ آپ کو ان تمام باتوں کا علم ہے کہ یہ منافق ہے اور منافق کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار کرے اور مغفرت طلب کرے تو ان کی مغفرت نہیں ہو گی۔آنحضرت صلی اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک اجازت بھی دی ہوئی ہے۔میں کوشش کروں گا کہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں یعنی کثرت سے کروں گا۔اُس کے لئے اگر مجھے اس سے زیادہ بھی بخشش طلب کرنا پڑی تو کروں گا۔یہ تھا آپ کا اسوہ جو آپ نے ان منافقین کے ساتھ بھی روا رکھا۔(بخاری کتاب التفسير باب قوله استغفر لهم او لا تستغفر لهم۔حدیث (4670)