خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 259
259 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دورانِ گفتگو مجلس میں آپ نے فرمایا کہ : ” دشمن بد اندیش صرف عداوت کے سبب ہماری ہر بات اور ہر فعل پر اعتراض کرتا ہے، کیونکہ اُس کا دل خراب ہے۔اور جب کسی کا دل خراب ہو تا ہے تو پھر چاروں طرف اند ھیرا ہی نظر آتا ہے۔یہ نادان کہتے ہیں کہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھے ہیں اور کچھ کام نہیں کرتے“۔(یعنی آپ کے متعلق کہا کہ اپنی جگہ پر بیٹھا ہے کوئی کام نہیں کرتے) مگر وہ خیال نہیں کرتے کہ مسیح موعود کے متعلق کہیں یہ نہیں لکھا کہ وہ تلوار پکڑے گا اور نہ یہ لکھا ہے کہ وہ جنگ کرے گا بلکہ یہی لکھا ہے کہ مسیح کے دم سے کافر مریں گے یعنی وہ اپنی دعا کے ذریعے سے تمام کام کرے گا۔اگر میں جانتا کہ میرے باہر نکلنے سے اور شہروں میں پھرنے سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے تو میں ایک سیکنڈ بھی یہاں نہ بیٹھتا۔مگر میں جانتا ہوں کہ پھرنے میں سوائے پاؤں گھسانے کے اور کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ سب مقاصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں صرف دعا کے ذریعہ سے حاصل ہو سکیں گے۔دعا میں بڑی قوتیں ہیں“۔فرمایا ”کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ ایک ملک پر چڑھائی کرنے کے واسطے نکلا۔راستے میں ایک فقیر نے اُس کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور کہا کہ تم آگے مت بڑھو ورنہ میں تمہارے ساتھ لڑائی کروں گا۔بادشاہ حیران ہوا اور اُس سے پوچھا کہ تو ایک بے سر و سامان فقیر ہے تو کس طرح میرے ساتھ لڑائی کرے گا؟ فقیر نے جواب دیا کہ میں صبح کی دعاؤں کے ہتھیار سے تمہارے مقابلہ میں جنگ کروں گا۔بادشاہ نے کہا، میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔غرض دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہو گا دعا ہی کے ذریعہ سے ہو گا۔ہمارا ہتھیار تو دعاہی ہے اور اس کے سوائے اور کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں خدا تعالیٰ اس کو ظاہر کر کے دکھا دیتا ہے۔گزشتہ انبیاء کے زمانہ میں بعض مخالفین کو نبیوں کے ذریعہ سے بھی سزادی جاتی تھی مگر خدا جانتا ہے کہ ہم ضعیف اور کمزور ہیں۔اس واسطے اُس نے ہمارا سب کام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔اسلام کے واسطے اب یہی ایک راہ ہے جس کو خشک ملّا اور خشک فلسفی نہیں سمجھ سکتا۔اگر ہمارے واسطے لڑائی کی راہ کھلی ہوتی تو اس کے لئے تمام سامان بھی مہیا ہو جاتے۔جب ہماری دعائیں ایک نقطہ پر پہنچ جائیں گی تو جھوٹے خود بخود تباہ ہو جائیں گے۔نادان دشمن جو سیاہ دل ہے وہ کہتا ہے کہ اُن کو سوائے سونے اور کھانے کے اور کچھ کام ہی نہیں ہے۔مگر ہمارے نزدیک دعا سے بڑھ کر اور کوئی تیز ہتھیار ہی نہیں۔سعید وہ ہے جو اس بات کو سمجھے کہ خدا تعالیٰ اب دین کو کس راہ سے ترقی دینا چاہتا ہے“۔(ملفوظات جلد نمبر 9صفحہ 28،27۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984ء) (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 36 مطبوعہ ربوہ) پس یہ دعا کے مضمون کے چند نمونے ہیں جو میں نے آج آپ کے سامنے پیش کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دعاؤں کے مضمون کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں لاگو کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیشہ ہمارے پیش نظر خدا تعالیٰ کی ذات ہو ، اُس کی رضا کا حصول ہو۔ہر آسائش میں بھی اور ہر مشکل میں بھی ہم اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے اور اُس سے دعائیں مانگنے کی اہمیت کو سمجھنے والے ہوں۔ہم اس روح کو سمجھنے والے ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رشتہ بیعت جوڑ کر ہم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اور یہ بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی