خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 252 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 252

خطبات مسرور جلد نهم 252 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء مارچ 1907ء کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے تو وہاں دو احباب کی آپس کی ناراضگی کا ذکر ہوا کہ اُن میں ناراضگی ہو گئی ہے۔اس بارہ میں بھی آپ نے مختلف نصائح اُس مجلس میں فرما ئیں اور پھر یہ بھی فرمایا کہ: ”جب تک سینہ صاف نہ ہو، دعا قبول نہیں ہوتی۔اگر کسی دنیوی معاملہ میں ایک شخص کے ساتھ بھی تیرے سینہ میں بغض ہے تو تیری دعا قبول نہیں ہو سکتی“۔فرمایا کہ یہ جو آپس میں لڑائیاں اور رنجشیں اور جھوٹی اناؤں کی وجہ سے ایک دوسرے سے ناراضگیاں ہیں ان کو چھوڑ دو اور دلوں کے بغض اور کینے نکال دو۔کیونکہ اگر سینے میں یہ بغض اور کینے ہیں تو فرمایا تیری دعا قبول نہیں ہو سکتی۔فرمایا کہ اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہئے اور دنیوی معاملہ کے ب کبھی کسی کے ساتھ بغض نہیں رکھنا چاہئے۔اور دنیا اور اُس کا اسباب کیا ہستی رکھتا ہے کہ اس کی خاطر تم کسی سے عداوت رکھو “ ( ملفوظات جلد نمبر 9 صفحہ 218-217۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984 ء ) ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 170 مطبوعہ ربوہ) آپ صبح سیر کو تشریف لے جاتے تھے۔بعض احباب بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔کسی نہ کسی موضوع پر گفتگو ہو رہی ہوتی تھی۔1908ء کی ایک صبح کی سیر کا ذکر ہے۔یہ لمبی گفتگو تھی اس کا ایک حصہ میں نے لیا ہے فرمایا ” بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک کان سے سنتے ہیں دوسری طرف نکال دیتے ہیں۔ان باتوں کو دل میں نہیں اتارتے۔چاہے جتنی نصیحت کرو مگر اُن کو اثر نہیں ہوتا۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے۔جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پر واہ نہیں کرتا۔دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بہار ہو یا کسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اُس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے۔پس دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالتِ اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے۔جیسا کہ فرمایا۔آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ ( النمل : 63 ( ملفوظات جلد نمبر 10 صفحہ 137۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984 ء ) ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 455 مطبوعہ ربوہ) (کہ کون کسی کی دعا کو سنتا ہے جب وہ اُس سے دعا کرتا ہے اور تکلیف کو دور کر دیتا ہے۔کسی بے کس کی دعا اور مضطر کی دعا کو وہ سنتا ہے)۔آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان دعاؤں کو سنتا ہے۔لاہور میں ایک مجلس میں جس میں غیر احمدی احباب بھی شامل تھے آپ نے ایک لمبی تقریر فرمائی جس میں دعا کے بارہ میں فرمایا کہ اسلام سے سچی مراد یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع اپنی رضا کرلے“۔فرمایا مگر سچ یہ ہے کہ یہ مقام انسان کی اپنی قوت سے نہیں مل سکتا۔ہاں اس میں کلام نہیں“۔( اس میں کوئی شک نہیں " کہ انسان کا فرض ہے کہ وہ مجاہدات کرے۔لیکن اس مقام کے حصول کا اصل اور سچا ذریعہ دعا ہے۔انسان کمزور ہے۔جب تک دعا سے قوت اور تائید نہیں پاتا اس دشوار گزار منزل کو طے نہیں کر سکتا۔خود اللہ تعالیٰ انسان کی کمزوری اور اس کے ضعف حال کے متعلق ارشاد فرماتا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء: 29) - یعنی انسان ضعیف اور کمزور بنایا گیا ہے۔پھر باوجود اس کی کمزوری کے اپنی ہی طاقت سے ایسے عالی درجہ اور ارفع مقام کے حاصل کرنے کا دعویٰ کرنا سر اسر خام خیالی ہے۔اس کے لئے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔دعا ایک زبر دست