خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 243
243 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم تباہ ہونے سے بچانے کے لئے کوشش کریں۔دنیا کو خدا تعالیٰ کی پہچان کروائیں اور اس مقصد کی پہچان کرائیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے تا کہ وہ ان آفات سے محفوظ رہ سکیں۔اللہ تعالیٰ اُس کے مقصد پیدائش کی طرف توجہ دلانے کے لئے یہ آفات جو ہیں وقتا فوقتاً بھیجتا رہتا ہے۔اگر انسان توجہ نہیں کرے گا تو یہ آفات آتی چلی جائیں گی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔دنیا کو ہوشیار کرنے کا یہ کام آج ہمارا ہی ہے۔یہ جماعت احمدیہ کا ہی کام ہے۔کوئی اور اس کو کرنے والا نہیں۔کیونکہ آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اللہ تعالیٰ نے وہ مقام عطا فرما دیا ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص قرب اور پیار کا مقام ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک الہام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرزندی کا مقام عطا فرمایا۔فرمایا۔اِنِّي مَعَكَ يَا ابْنَ رَسُوْلِ الله - ( ملفوظات جلد نمبر 4 صفحہ 569 مطبوعہ ربوہ ) کہ میں تیرے ساتھ ہوں اے رسول اللہ کے بیٹے۔پس آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ روحانی فرزند ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو پورا کرنا ہے اور یہی آپ کے ماننے والوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل کرنی ہے ، اللہ تعالیٰ کے انعاموں کا وارث بننا ہے تو تبلیغ کے کام کو پہلے سے بڑھ کر کریں۔جس شدت اور جس تعداد میں گزشتہ چند سالوں میں دنیا میں آفات آئی ہیں، اس شدت سے اور کوشش سے دنیا کو ہوشیار کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر مسلمانوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس الہام کے ساتھ جو دوسرا الہام ہے وہ یہ ہے کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلی دِيْنِ وَاحِدٍ (ملفوظات جلد نمبر 4 صفحہ 569 مطبوعہ ربوہ) گو یہ حکم اور الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا گیا، براہِ راست آپ کا کام تھا اور آپ نے کیا لیکن یہ آپ کے ماننے والوں کا بھی کام ہے۔ہمارا بھی یہ کام ہے کہ اس پیغام کو پہنچائیں۔گو بعض مسلمان ممالک میں احمدیوں پر پابندیاں اور سختیاں ہیں۔ہم پیغام پہنچا نہیں سکتے ، کھلے عام تبلیغ نہیں کر سکتے۔نام نہاد علماء لوگوں کو پیغام سننے کے لئے روکیں کھڑی کرتے رہتے ہیں۔لیکن ایک ذریعہ بند ہو تو حکمت سے دوسرا ذریعہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ایک علاقے میں بند ہو ، ایک ملک میں بند ہو تو دوسرے ملکوں کی طرف توجہ دی جاسکتی ہے۔اگر ان ملکوں میں احمدیوں کو براہ راست تبلیغ کی اجازت نہیں ہے تو ایم۔ٹی۔اے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انتظام فرما دیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ذریعہ سے باوجود تمام روکوں کے تبلیغ کا پیغام پہنچ بھی رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں بھی ہو رہی ہیں۔پھر بعض ایسے ممالک ہیں جہاں ایسی کوئی قانونی پابندیاں تو نہیں ہیں لیکن بعض علماء کی طرف سے مخالفتیں ہوتی ہیں لیکن اُن میں سے ہی بعض ایسے سعید فطرت بھی ہیں، ایسے نیک فطرت بھی ہیں جو ہماری مجالس میں آکر ہمارے پروگرام دیکھ کر احمدیت کی طرف مائل بھی ہو رہے ہیں۔پھر ایسی جگہوں پر جہاں کوئی قانونی روکیں نہیں اور کچھ لوگوں کی توجہ بھی پیدا ہو رہی ہے تو ایسے مسلمان ملکوں میں خاص طور پر افریقہ میں