خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 244

244 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہماری کوششیں پہلے سے زیادہ تیز ہونی چاہئیں۔یہ ہر جگہ کے جماعتی نظام کا کام ہے۔افریقہ کے بعض ممالک میں امام جو ہیں اپنے ماننے والوں کے ساتھ جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اور یہ بھی ایک الہی تصرف ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو دلوں کو پھیر رہا ہے۔ہماری تو حقیر کوششیں ہوتی ہیں۔یہ الہام جو ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یہ امر جو ہے کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلی دِيْنِ وَاحِد یہ ایک خاص قسم کا امر ہے۔احکام اور امر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک شرعی رنگ میں ہوتے ہیں جیسے نماز پڑھو، زکوۃ دو، خون نہ کرو وغیرہ۔اس قسم کے اوامر میں ایک پیشگوئی بھی ہوتی ہے کہ گویا بعض ایسے بھی ہوں گے جو اس کی خلاف ورزی کریں گے “۔یہ حکم جو ہیں یہ حکم تو ہیں لیکن یہ ایسے حکم ہیں جن میں چھپی ہوئی یہ پیشگوئی بھی ہوتی ہے کہ ایسے لوگ ہوں گے جو یہ نہیں کریں گے اس لئے حکم دیا کہ کرو۔خاص توجہ دلائی گئی ہے۔فرمایا کہ ”جیسے یہود کو کہا گیا کہ توریت کو محرف مبدل نہ کرنا۔یہ بتاتا تھا کہ بعض اُن میں سے کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔غرض یہ امر شرعی ہے اور یہ اصطلاح شریعت ہے“۔فرمایا ” دوسرا امر گونی ہوتا ہے اور یہ احکام اور امر قضا و قدر کے رنگ میں ہوتے ہیں، جیسے قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلمًا (الانبیاء :70)“۔(کہ ہم نے کہا اے آگ! تو ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیم علیہ السلام پر )۔اور وہ پورے طور پر وقوع میں آ گیا۔( اسی طرح ہو گیا)۔”اور یہ امر جو میرے اس الہام میں ہے یہ بھی اس قسم کا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانانِ روئے زمین عَلى دِيْنٍ وَاحِدٍ جمع ہوں اور وہ ہو کر رہیں گے۔ہاں اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی قسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔اختلاف بھی رہے گا مگر وہ ایسا ہو گا جو قابل ذکر اور قابل لحاظ نہیں“۔( مانغو ثلات جلد نمبر 4 صفحہ 569-570) پس اس الہام کی جو وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے یہ ہمیں خوشخبری دیتی ہے کہ یہ امر اللہ تعالیٰ کے گوئی امر میں سے ہے۔یعنی جس کے بارے میں خدا تعالیٰ جب کُن کہتا ہے ( جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میں کن کہوں تو وہ ہو جاتا ہے ) تو وہ ہو جاتی ہے۔تو یہ وہ امر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کن کہہ دیا۔کُن کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کُن کہا اور فوری ہو جائے گا، جب اعلان ہو ا تو ساتھ شروع ہو گیا۔بلکہ قانونِ قدرت کے تحت جو عرصہ درکار ہے وہ لگتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت جتنا عرصہ لگنا ہے وہ لگتا ہے۔لیکن نتیجہ ضرور اس کے حق میں ظاہر ہوتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کے کن کہنے سے جب بچے کی پیدائش کی بنیاد پڑتی ہے تو ہر جانور یا انسان کو جتنا عرصہ اُس بچے کی پیدائش میں قانونِ قدرت کے مطابق لگنا ہے وہ لگتا ہے۔یہ نہیں ہو جاتا کہ کن ہوا اور ایک دو دن میں یا دو منٹ میں بچہ پیدا ہو جائے۔جتنا عرصہ لگنا ہے وہ لگتا ہے اور یہ سب کچھ پراسس (Process) جو ہوتا ہے وہ اللہ کے کُن سے ہی ہو تا ہے۔پس یہاں بھی کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ لکھ چھوڑا ہے کہ مسلمان دین واحد پر جمع ہوں گے ، اور وہ پراسس