خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 224
224 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کے عاشق صادق نے ہمیں اس شرک کے گند سے نکالنے کے لئے وہ رہنمائی فرمائی ہے جو عین اُس تعلیم کے مطابق ہے جو قرآن کریم کی تعلیم ہے۔جس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت قائم ہوتی ہے۔جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی تعلیم کا پتہ لگتا ہے۔جس سے آپ کی بڑائی اور برتری ثابت ہوتی ہے۔جس سے تمام مذاہب پر اسلام کی برتری ثابت ہوتی ہے۔دوسرے مذاہب والے جتنا بھی چاہیں یہ کہتے پھریں کہ ہمارے مذہب میں نجات ہے اور خاص طور پر عیسائیت کا یہ دعویٰ ہے کہ مسیح نے صلیبی موت سے ہمارے لئے کفارہ ادا کر دیا ہے۔اب مسیح ہی ہمارے لئے راہ نجات ہے اور پھر اس لئے بھی کہ وہ خدا کا بیٹا ہے اور اس کے ماننے والے ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں تو اس وجہ سے وہ بلکہ عیسائیت میں جو سینٹس (Saints) کہلاتے ہیں وہ بھی شفاعت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔گزشتہ دنوں سابقہ پوپ جان پال دی سیکنڈ جو تھے ، ان کے بارہ میں بھی عیسائی دنیا میں کہا گیا کہ اُس کے بعض معجزات کی وجہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ اُسے بھی شفاعت کا مقام مل گیا ہے کیونکہ ایک خاص مقام پر وہ فائز ہو گیا ہے۔اُس کو ایسا قرب مل گیا ہے جہاں وہ شفاعت کر سکتا ہے اور وہاں جنت میں بیٹھ کر وہ یہ کام کر سکتے ہیں۔بہر حال یہ تو ان کے نظریات ہیں۔اُن کی جو غلط تعلیم ہے اُس کے مطابق وہ کرتے ہیں۔جو وہ سمجھتے ہیں سمجھتے رہیں۔اصل تو یہ ہے کہ اُن کی تعلیم ہی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے مکمل طور پر خلاف چلتے ہوئے شرک پر بنیاد کر رہی ہے۔لیکن اس تعلیم کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جنہوں نے ہمیں عیسائیت کے ان غلط نظریات کے بارہ میں بتایا۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: سو یاد رکھو کہ خدائی کے دعویٰ کی حضرت مسیح پر سراسر تہمت ہے۔انہوں نے ہر گز ایسا دعویٰ نہیں کیا۔جو کچھ انہوں نے اپنی نسبت فرمایا ہے وہ الفاظ شفاعت کی حد سے بڑھتے نہیں۔سو نبیوں کی شفاعت سے کس کو انکار ہے۔حضرت موسی کی شفاعت سے کئی مرتبہ بنی اسرائیل بھڑکتے ہوئے عذاب سے نجات پاگئے اور میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں“۔فرمایا ” اور میری جماعت کے اکثر معزز خوب جانتے ہیں کہ میری شفاعت سے بعض مصائب اور امراض کے مبتلا اپنے دُکھوں سے رہائی پاگئے اور یہ خبریں اُن کو پہلے سے دی گئی تھیں۔اور مسیح کا اپنی امت کی نجات کے لئے مصلوب ہونا اور اُمت کا گناہ اُن پر ڈالے جانا ایک ایسا مہمل عقیدہ ہے جو عقل سے ہزاروں کوس دور ہے۔خدا کی صفات عدل اور انصاف سے یہ بہت بعید ہے کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کسی دوسرے کو دی جائے۔غرض یہ عقیدہ غلطیوں کا ایک مجموعہ ہے“۔(لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 236) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : حقیقی اور سچی بات یہ ہے کہ شفیع کے لئے ضرورت ہے کہ اوّل خدا تعالیٰ سے تعلق کامل ہو تا کہ وہ خدا سے فیض کو حاصل کرے اور پھر مخلوق سے شدید تعلق ہو تا کہ وہ فیض اور خیر جو وہ خدا سے حاصل کرتا ہے مخلوق کو پہنچاوے۔جب تک یہ دونوں تعلق شدید نہ ہوں شفیع نہیں ہو سکتا۔