خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 221
221 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بھائی بیان کرتے ہیں کہ فائرنگ کے وقت میں گھر سے باہر تھا۔چنانچہ میرے بھائی فائرنگ کی آواز سن کر مجھے تلاش کرنے گھر سے باہر نکلے اور تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ مجھے دیکھ لیا تو فورا گھر پہنچنے کو کہا اور یہ کہہ کر جب خود واپس مڑے تو ایک گولی کا نشانہ بن گئے جو انہیں دل پر لگی اور فوری وفات ہو گئی ،إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّ الَيْهِ رَاجِعُون۔انہوں نے کچھ دن پہلے میر ابتایا کہ میں نے خاص طور پر یکم اپریل کا جو خطبہ دیا تھا، اس سے میں وہ پیغام سب کچھ سمجھ گیا تھا اور ہڑتالوں میں شامل ہونے کا سوال نہیں تھا۔بہر حال باہر نکلے ہیں اور وہاں فائرنگ ہورہی تھی اس میں یہ گولی کا نشانہ بن گئے۔بڑے خوش مزاج اور محبت کرنے والی شخصیت تھے۔آپ کی اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔آپ کی عمر صرف اکتیس سال تھی۔بیعت سے قبل شیخ عبد الہادی البانی کے متبعین میں سے تھے جس کا دعویٰ ہے کہ امام مہدی ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام دمشق میں موجود اس شخص کی مسجد میں نزول فرمائیں گے۔پھر جب انہوں نے وفات مسیح کے دلائل نے تو 2008ء میں یہ بیعت کر کے احمد کی ہو گئے۔تیسرا جنازہ محمد مصطفى رعد صاحب سیریا کا ہے۔یہ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد اپنے گھر کی چھت پر کچھ آرام کر رہے تھے اور نیچے گلی میں لوگ مظاہرہ کر رہے تھے۔ان کا بیٹا چھت کی منڈیر کے قریب ہو کر دیکھنے لگا تو یہ اُسے پیچھے کرنے کے لئے بڑھے۔لیکن اسی اثناء میں ایک گولی آئی اور ان کی آنکھ پر لگ گئی اور وہیں وفات ہو گئی۔انا لِلهِ وَانَّااِلَيْهِ رَاجِعُون۔1971ء میں یہ پیدا ہوئے تھے اور ائیر پورٹ میں ملازمت کرتے تھے۔ایم۔ٹی۔اے کے ذریعے سے احمدیت کا پتہ چلا۔پھر تحقیق کے بعد 2008ء میں انہوں نے بیعت کی۔ان کی اہلیہ غیر احمدی ہیں لیکن احمدیت کی صداقت سے مطمئن ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی توفیق عطا فرمائے کہ وہ احمدیت قبول کریں۔ان کے بیٹے اور بیٹی کے علاوہ ان کے دو بھائی اور بعض اور افراد بھی جماعت میں داخل ہو چکے ہیں۔بڑے مخلص، مطیع، با اخلاق اور خلافت سے بہت زیادہ محبت رکھتے تھے۔یہی حال ان کے بچوں کا ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو حوصلہ اور صبر دے۔ایک جنازہ ہمارے مکرم لطف الرحمن صاحب شاکر کا ہے ان کی ایک طویل علالت کے بعد 27 اپریل کو وفات ہوئی ہے۔تقریباً اسی سال کی عمر تھی۔یہ مولانا عبد الرحمن انور صاحب جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی اور حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے ہوئے ہیں بلکہ تحریک جدید کے ابتدائی ممبران میں سے تھے۔اُن کے بڑے بیٹے تھے۔یہ خود واقف زندگی تھے اور فضل عمر ہسپتال میں ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کے ساتھ ڈسپنسر کے طور پر کام کرتے تھے۔اور حضرت خلیفتہ المسیح الثالث " کے ساتھ ان کو افریقہ اور یورپ کے سفر کا بھی موقع ملا۔ان کا خلافت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق تھا۔ربوہ کے لوگوں کی خدمت کرنے والے تھے۔حضرت اماں جان حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت مصلح موعودؓ، حضرت خلیفہ المسیح الثالث ، سب کی خدمت کا ان کو موقع ملا۔بلکہ جو ٹیکے لگاتے تھے اُن کی سرنجیں یا سوئیاں بھی، حضرت اماں جان کی، حضرت خلیفہ ثانی کی، حضرت خلیفہ ثالث کی سنبھال کر رکھی ہوئی تھیں۔ان کو بہر حال انہوں نے ایک تبرک سمجھ کر رکھا تھا۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے فضل عمر ہسپتال اور گائنی کا ونگ اور ہارٹ انسٹیٹیوٹ دونوں کی طبی سہولتوں میں بہت ساری وسعت