خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 210
210 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم شیطانی خواب ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔تم کثرت سے تعوذ پڑھو اور درود شریف پڑھو۔چنانچہ انہوں نے پھر دعا کی۔کثرت سے درود شریف پڑھا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو خواب میں نظر آئے۔چنانچہ یہ پھر دوبارہ شیخ کی مجلس سوال وجواب میں گئے اور وہاں ذکر کیا۔اُس شیخ نے پھر کہا کہ یہ شیطانی خواب ہے۔عبدل سلیم صاحب نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ رات کو میں کثرت سے تعوذ پڑھتا ہوں۔درود شریف پڑھتا ہوں۔پھر دعا کرتا ہوں کہ اے خدا! تو مجھے امام مہدی علیہ السلام کی آمد کے بارے میں بتا۔مگر بقول آپ کے خدا تعالیٰ مجھے جواب نہیں دیتا مگر صرف شیطان جواب دیتا ہے۔یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔یہ جواب سن کر مسجد میں شور مچ گیا اور انہوں نے کہا اس کو یہاں سے باہر نکالو۔یہ کافر ہے۔یہ پلید ہے۔کہتے ہیں یہاں تک کہ عورتوں کی طرف جو سائڈ سکرین تھی، وہاں سے بھی سکرین پیٹی جانے لگی کہ اسے باہر نکالو۔یہ کافر ہے۔بہر حال یہ کہتے ہیں میں وہاں سے اُٹھ کر آگیا اور یہ سارا واقعہ انہوں نے ہمارے مبلغ کو سنایا اور پھر کہا کہ اب مجھے شرح صدر ہو گئی ہے کیونکہ شیخ کے پاس تو اس کا کوئی جواب نہیں اور اب میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے بیعت کی۔جس دن بیعت کی تو اسی روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مکمل طور پر خواب میں اُن پر ظاہر ہوئے اور اُن کو سلام کیا اور مصافحہ کیا اور احمدیت قبول کرنے پر مبارکباد دی۔اور کہتے ہیں اگلے دن میں بڑا خوش تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس طرح میں نے مصافحہ کیا۔تو یہ لوگ جو گزشتہ ایک سو بیس سال سے شیخ ہیں یا نام نہاد علماء ہیں، اسی طرح عوام الناس کو ، مسلمانوں کو ورغلاتے چلے جارہے ہیں۔اور آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ بڑی شان سے پورے ہو رہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ”میں دیکھتا ہوں اور آپ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ کافر کہنے والے موجود نہیں اور خدا تعالیٰ نے مجھے اب تک زندہ رکھا اور میری جماعت کو بڑھایا ہے“۔لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 250،249) اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گو اپنے وجود کے ساتھ ہم میں موجود نہیں لیکن جماعت کا بڑھنا، آپ کا لوگوں میں خوابوں کے ذریعے سے آکے اپنی سچائی ثابت کرنا یہی زندگی کا ثبوت ہے۔پھر انڈونیشیا سے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ڈیڈی سناریہ (Dedi Sunarya) صاحب جماعت احمدیہ سیانجوڑ (Cianjur) ویسٹ جاوا کے ممبر ہیں۔ان تک جماعت کا پیغام 2006ء تک پہنچ چکا تھا۔انہوں نے جماعتی کتب کا مطالعہ شروع کیا۔اُن کی پسندیدہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی معرکۃ الآراء کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی تھی۔وہ کہتے ہیں بارہا اس کا مطالعہ کرنے کے بعد بھی انہیں احمدیت قبول کرنے میں ہچکچاہٹ تھی۔ایک دن انہیں کہا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے استخارہ کریں۔چنانچہ وہ مسلسل دعا کرتے رہے اور فروری 2008ء میں انہوں نے خواب میں ایک زبان میں ایک جملہ سنا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”اگر تم وہاں جانا چاہتے ہو تو پہلے تمہیں مضبوط ہونا ہو گا اس کے بعد جلد ہی اُنہیں ایک اور خواب آئی جس میں انہیں کہا 66