خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 15

خطبات مسرور جلد نهم 15 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء موضوع تھا ”اسلام کتنا خطر ناک ہے ؟“ اس میں شامل ہوئے اور اسلام کا دفاع کیا۔پھر ان کا ایک ٹاک شو تھا کیا اسلام قبول کرنے والے انتہا پسند ہیں ؟“ اس میں بھی انہوں نے بڑا کر دار ادا کیا۔غرض کہ کافی ٹی وی پروگرام ان کے تھے۔قومی ، بین الا قوامی سیاستدانوں اور اہم دانشوروں اور ادیبوں فنکاروں سے ، صحافیوں سے آپ کے رابطے بھی تھے۔اسلام کے ناقدین کے علاوہ اخباروں، رسالوں اور پبلشروں سے بھی رابطے رہتے تھے۔جرمنی کے ، بڑے روزنامے "Die Welt" میں آپ کے مضامین چھپتے رہے۔آپ کی وفات پر جرمنی کے سولہ اخبارات نے خبر دی ہے اور ان میں کئی بڑے قومی اخبارات شامل ہیں۔بہت سے مضامین میں آپ کو مسلمان ہونے والی سب سے مشہور شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔حیسن صوبہ کے وزیر برائے مذہبی ہم آہنگی نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ آپ اسلام اختیار کرنے والوں میں سب سے مشہور شخصیت تھے۔فرینکفرٹ نیو پر میں نے لکھا ہے کہ آپ ایک شاعر اور مبلغ تھے، ادب کے نوبل انعام یافتہ گنٹر کر اس (Gunter Grass) نے آپ کو 1960ء کی دہائی کے عظیم مصنفین میں شمار کیا ہے۔آخری نظم جو آپ نے لکھی تھی اس میں آپ آنحضرت ملا یہ تم کا نہایت ادب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ آپ کی بدولت مجھے سچے اور پاک دین کو قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔آپ کی جیسا کہ میں نے بتایا کہ ایک اہلیہ ہیں اور آٹھ بچے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کا بھی نگہبان ہو۔ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلائے۔ایک دو بچیاں تو ہیں جو جماعت کی خدمات کر رہی ہیں۔تمام بچے ان کی خواہش کے مطابق جماعت کے خادم بنیں اور وفا کا جو تعلق انہوں نے جماعت کے ساتھ اور خلافت کے ساتھ رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی اس میں بڑھاتا چلا جائے۔اسی طرح میں جرمنی کے احمدیوں کو ، نوجوان نسل کو بھی کہتا ہوں کہ جرمن ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے احمدی مسلمان ہونے کا ایک حق ادا کیا تو آپ لوگ بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور جرمنی میں اور یورپ میں جہاں بھی اسلام کے دفاع کی ضرورت ہے آگے بڑھیں، علم حاصل کریں اور سیکھیں اور ان کی زبان میں ان کو بیان کریں اور اسلام کا دفاع کریں۔نہ صرف دفاع کریں بلکہ اسلام کی خوبیاں بیان کر کے اسلام کی برتری تمام مذاہب پر ثابت کریں۔یہاں ایک وضاحت بھی کرنا چاہتا ہوں۔ہدایت اللہ صاحب جیسا کہ میں نے کہا کہ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے لیکن بعض دفعہ کسی کے مقام کو بعض لوگ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس سے دوسروں کے ذہنوں میں بعض سوال اٹھنے لگ جاتے ہیں۔یہ تاثر بھی بعض جگہ سے ملا ہے کہ منگل کے روز جو سورج گرہن ہوا تھا شاید سورج