خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 199

199 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اُس تقویٰ کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنے کے لئے قرآنِ کریم کی پیشگوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آنا تھا اور آئے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی تھی اور جس سے مسلمان اپنی شامت اعمال کی وجہ سے محروم کر دیئے گئے تھے۔پس ہم احمدی جب یہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا ہم نے وہ ایمان اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کی تعلیم قرآن کریم نے دی تھی اور جو صحابہ نے اپنے اندر پیدا کیا ہے ؟ کیا ہم نے اُس سچائی کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی یا کر رہے ہیں جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مومنین کی ایک کثیر تعداد نے اپنے اندر انقلاب لاتے ہوئے پیدا کیا؟ کیا ہم نے اپنے دلوں میں وہ تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کی جس کا ذکر ہم صحابہ رضوان اللہ عَلَيْهِم کی سیرت میں سنتے اور پڑھتے ہیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اپنی زندگی میں اپنے صحابہ کی زندگی میں یہ انقلاب پیدا فرمایا تھا جس کا ذکر میں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات جب بیان کرتا ہوں تو اس حوالے سے کرتارہتا ہوں۔یہ فقرہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ ”میں بھیجا گیا ہوں تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو اس کے آگے پھر چند سطریں چھوڑ کر آپ فرماتے ہیں کہ ”سو یہی افعال میرے وجود کی علت غائی ہیں۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن۔جلد 13۔صفحہ 293۔حاشیہ ) یعنی آپ کے وجود کی، آپ کی ذات کی اصل اور بنیادی وجہ ہیں۔پس جب آپ اپنے ماننے والوں کو ایک جگہ مخاطب کر کے یہ فرماتے ہیں کہ ”میرے درخت وجود کی سر سبز شاخو“۔( فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 34) تو یہ کام جن کا آپ نے ذکر فرمایا ہے ، یہ کام کرنے والے ہی آپ کے وجود کی سرسبز شاخ بن سکتے ہیں۔کیونکہ آپ نے اپنے وجود کا یہی بنیادی مقصد قرار دیا ہے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک شیریں اور میٹھے پھلدار درخت کی کچھ شاخیں زہر یلے پھل دینے لگ جائیں یا سوکھی شاخیں اُس درخت کا حصہ رہیں۔سوکھی شاخوں کو تو کبھی اس کا مالک جو ہے رہنے نہیں دیتا بلکہ کاٹ کر علیحدہ کر دیتا ہے۔پس بہت خوف کا مقام ہے۔ہمیں ہر وقت ذہن میں یہ رکھنا چاہئے کہ بیعت کے بعد ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں۔جو تو نئے بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو رہے ہیں، اُن کے واقعات اور حالات جب میں سنتا ہوں یا خطوں میں پڑھتا ہوں تو اپنے ایمان میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔لیکن بعض وہ جن کے باپ دادا احمدی تھے ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں، جب بعض دفعہ ان کے بعض حالات کا پتہ چلتا ہے کہ بعض کمزوریاں پیدا ہو رہی ہیں تو دُکھ اور تکلیف ہوتی ہے کہ اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی طرف اُس طرح توجہ نہیں ہے جس طرح ہونی چاہئے۔پیدائشی احمدی ہونا بعض دفعہ بعض لوگوں میں ستیاں پیدا کر دیتا ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنے دلوں کو ٹٹولتے ہوئے اپنا جائزہ