خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 194 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 194

194 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم بات اس سے زیادہ دشوار ہے کہ تم تھوہر سے تازہ کھجوروں کی امید رکھو“۔( تھوہر کے پودے سے تازہ کھجور کی امید رکھو)۔”اور ان سے کیا توقع کی جائے اور وہ تو بڑے پتھروں کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور وہ کیونکر سر اٹھائیں اور وہ ہزاروں غموں کے نیچے آئے ہوئے ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان آفتوں کا دفع کرنا بادشاہوں اور امیروں کا مقدور نہیں۔کیا کبھی اندھا اندھے کو راہ بتا سکتا ہے۔اے دانشمند و!۔علاوہ بریں اگر چہ یہ بادشاہ مسلمان یا مخلص ہمدرد بھی ہوں لیکن پھر بھی ان کے نفوس پاک کاملوں کے نفوس کی مانند نہیں ہیں اور مقد سوں کی طرح انہیں نور اور جذب نہیں دیا جاتا۔اس لئے کہ نور آسمان سے اسی دل پر اترتا ہے جو فنا کی آگ سے جلایا جاتا ہے۔پھر اُسے سچی محبت دی جاتی ہے اور رضا کے چشمہ سے اُسے غسل دیا جاتا اور بینائی اور سچائی اور صفائی کا سرمہ اس کی آنکھوں میں لگایا جاتا ہے۔پھر اسے برگزیدگی کے لباس پہنائے جاتے ہیں اور پھر اسے بقا کا مقام بخشا جاتا ہے۔اور جو آپ ہی اندھیرے میں بیٹھا ہو وہ اندھیرے کو کیونکر دُور کر سکتا ہے۔اور جو آپ ہی لذات کے تختوں پر سو تاہو وہ کسی کو کیا جگا سکتا ہے۔اور حق بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے بادشاہوں کو روحانی امور سے کوئی مناسبت نہیں۔خدا نے ان کی ساری توجہ جسمانی سیاستوں کی طرف پھیر دی ہے۔اور کسی مصلحت سے انہیں اسلام کے پوست کی حمایت کے لئے مقرر کر رکھا ہے“۔(یعنی ظاہری حمایت کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔”سیاسی اُمور ہی ان کے پیش نظر رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اُن کا فرض اس سے زیادہ نہیں کہ اسلام کی سرحدوں کی نگہداشت کا اچھا انتظام کریں اور ظاہر ملک کی خبر گیری کرکے دشمنوں کے پنجوں سے اسے بچائیں۔رہے لوگوں کے باطن اور ان کا پاک کرنا میل کچیل سے۔اور بچانا لوگوں کو شیطان سے۔اور نہ ان کی نگہبانی کرنا آفتوں سے دعاؤں کے ساتھ اور عقد ہمت کے ساتھ۔سو یہ معاملہ بادشاہوں کی طاقت اور ہمت سے باہر اور بالا تر ہے“ (روحانیت میں انہیں کوئی دخل نہیں) اور دانشمندوں پر یہ بات پوشیدہ نہیں۔اور بادشاہوں کو ملک کی باگ اس لئے سپر د کی جاتی ہے کہ وہ اسلامی صورتوں کو شیاطین کی دستبر د سے بچائیں۔اس لئے نہیں کہ وہ نفوس کو پاک صاف کریں اور آنکھوں کو نورانی بنائیں“۔الهدى والتبصرة لمن يرى روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 307 تا 309) پھر علماء کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ان کی اکثریت اسلام کے لئے بیماری کا حکم رکھتی ہے نہ کہ علاج کا۔۔۔۔یہ لوگوں کے مال طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے ہتھیاتے ہیں۔کہتے ہیں پر کرتے نہیں۔( جو حکم دیتے ہیں وہ خود نہیں کرتے ) نصیحت کرتے ہیں پر خود نصیحت نہیں پکڑتے۔(خلاصہ ان کی باتوں کا یہ ہے ) ان کی زبانیں درشت ، دل سخت اور اندھیروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ان کی آراء کمزور ، ذہن کند ، ہمتیں پست اور عمل برے ہیں۔تھوڑے سے علم پر مغرور ہو جاتے ہیں اور جو ان سے اختلاف کرے اس پر زبان طعن دراز کرتے اور مختلف حیلوں سے کفر کے فتوے لگاتے ہیں اور دکھ دیتے ہیں اور اس کا مال لوٹ لیتے ہیں۔۔۔۔فرمایا۔۔۔بخل ان کی فطرت ، حسد ان کا شیوہ ، تحریف شریعت ان کا دین ہے۔۔۔۔(شریعت میں