خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 189

189 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ایسی بے حیائیاں کر رہے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہوا ہے۔فرمایا کہ ”۔۔۔صبح اور شام ان کی خوش زندگی ہر طرح کی لذات میں بسر ہوتی ہے۔سو ایسے لوگوں کو خدا سے کیونکر مدد ملے جبکہ ان کے ایسے پر معصیت اور بُرے اعمال ہوں۔بلکہ ان عیش پسند غافل بادشاہوں کا وجود مسلمانوں پر خد اتعالیٰ کا بڑا بھاری غضب ہے۔ان کا وجود ہی مسلمانوں کی سزا بھی ہے جو نا پاک کیڑوں کی طرح زمین سے لگ گئے ہیں اور خدا کے بندوں کے لئے پوری طاقت خرچ نہیں کرتے اور لنگڑے اونٹ کی طرح ہو گئے ہیں اور چست چالاک گھوڑے کی طرح نہیں دوڑتے۔اسی سبب سے آسمان کی نصرت ان کا ساتھ نہیں دیتی اور نہ ہی کافروں کی آنکھ میں ان کا ڈر خوف رہا ہے جیسے کہ پر ہیز گار بادشاہوں کی خاصیت ہے بلکہ یہ کافروں سے یوں بھاگتے ہیں جیسے شیر سے گدھے۔اور لڑائی کے میدان میں ان کے دو ہزار کے لئے دو کافر کافی ہیں۔۔۔۔66 فرمایا۔۔ایسی خیانت اور گمراہی کے ہوتے انہیں کیونکر خدا سے مدد ملے۔اس لئے کہ خدا اپنی دائمی سنت کو تبدیل نہیں کرتا اور اس کی سنت ہے کہ کافر کو تو مدد دیتا ہے پر فاجر کو ہر گز نہیں دیتا۔یہی وجہ ہے کہ نصرانی بادشاہوں کو مدد مل رہی ہے اور وہ ان کی حدوں اور مملکتوں پر قابض ہو رہے ہیں اور ہر ایک ریاست کو دباتے چلے جاتے ہیں“۔آج بھی دیکھ لیں ظاہری طور پر اگر نہیں بھی تو عملی طور پر غیروں کے ہاتھوں میں مسلمان بادشاہوں کی اور ملکوں کی لگامیں ہیں۔ان کی معیشت اُن کے ہاتھ میں ہے۔) فرمایا کہ ” خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو اس لئے نصرت نہیں دی کہ وہ ان پر رحیم ہے “ (یعنی غیر وں کو جو مدد مل رہی ہے اور مسلمانوں کی جو بری حالت ہے، غیروں کی یہ مدد اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن پر بڑا مہربان ہے) بلکہ اس لئے کہ اس کا غضب مسلمانوں پر بھڑ کا ہوا ہے۔کاش مسلمان جانتے۔“ الهدى والتبصرة لمن يرى روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 284 تا 287) یہ آپ کا درد ہے۔اور آج یہ بات بڑی حقیقت ہے اور اخباروں میں جو حقیقت پسند کالم لکھنے والے ہیں، تبصرہ نگار ہیں، وہ بھی یہی لکھتے ہیں۔گزشتہ دنوں میں نے دی نیشن میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کا ایک مضمون دیکھا جنہیں پاکستان کا سائنٹسٹ کہا جاتا ہے۔انہوں نے بھی قرآنی آیات کی روشنی میں یہ سارا کچھ لکھا ہوا تھا کہ یہ یہ باتیں ہم کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ہم پر نازل ہو رہا ہے۔تو بہر حال یہ تو ان کی حالت ہے۔پھر آگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”اگر یہ متقی ہوتے تو کیونکر ممکن تھا کہ ان کے دشمن ان پر غالب کئے جاتے۔بلکہ جب انہوں نے دعا اور عبادت کو چھوڑ دیا تب خدا نے بھی ان کی کچھ پروانہ کی۔۔۔“۔فرمایا۔۔۔خدا کا عہد توڑنے اور قرآن کی حدود کی بے عزتی کرنے کے سبب سے خطر ناک حادثے ان پر نازل ہو رہے ہیں۔اور بہت سے شہر ان کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں۔۔۔“۔فرمایا ”۔۔۔یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا اور گرفت ہے۔۔۔“۔فرماتے ہیں ”۔۔۔دشمنوں نے انہیں رسوا نہیں کیا بلکہ خدا نے کیا۔اس