خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 13
13 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم 1974ء میں ان کی شادی ماریشس کی ایک خاتون سے ہوئی جن سے ایک بیٹی ہیں۔ان کی یہ اہلیہ 1989ء میں وفات پاگئی تھیں۔پھر ان کی دوسری شادی قادیان میں سعید احمد درویش مہار صاحب کی بیٹی سے ہوئی جن سے ان کے تین بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔بڑے مخلص اور فدائی احمدی تھے۔کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کس طرح کیا ؟ اس کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اپنی والدہ کے گھر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک سفید روشنی کندھے کے اوپر سے نکل کر کتابوں کی الماری کی طرف جاتی ہوئی نظر آئی جس میں سینکڑوں کتابیں ترتیب سے پڑی ہوئی تھیں۔وہ روشنی ایک کتاب پر آکر رُک گئی۔آپ نے جب اٹھا کر اس کتاب کو دیکھا تو وہ جرمن ترجمہ قرآن تھا۔آپ قرآنِ کریم کو اپنے ہاتھوں میں لے کر پڑھنے لگے اور قرآن میں کچھ حصہ پڑھنے کے ساتھ ہی آپ کو یقین ہو گیا کہ خدا تعالیٰ اپنی کتاب کے ذریعے بول رہا ہے۔اور یہ کتاب سچی ہے اور مجھے اسے قبول کر لینا چاہیئے۔چنانچہ اسلام قبول کر لیا۔یہ خیال آتے ہی پھر اس کے بعد مسجد کی تلاش شروع کر دی اور مسجد نور کا ان کو پتہ لگ گیا۔اس طرح جماعت سے رابطہ ہوا اور مبلغ سلسلہ مکرم مسعود جہلمی صاحب مرحوم سے تعلقات ہوئے۔انہوں نے بڑی محبت و شفقت سے ان کو اسلام اور احمدیت کا تعارف کروایا۔1969ء میں یہ بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے آپ کا نام ہدایت اللہ رکھا۔1970ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث "جب فرینکفورٹ تشریف لے گئے تھے تو وہاں آپ کی حضور سے ملاقات ہوئی۔امیر صاحب جرمنی بھی ان کے ذریعہ سے ہی احمدی ہوئے کیونکہ انہوں نے ان کو کافی تبلیغ کی۔کیونکہ وہ حق کی تلاش میں قادیان میں گئے تھے اور وہاں یہ بھی جرمن تھے اس لئے انہوں نے ان کو ساتھ لے کر سارا قادیان پھر ایا اور تبلیغ کی۔ہمیشہ یہ مترجم کے طور پر اور خلفاء کے مترجم کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔بڑے درویش صفت اور نیک اور مخلص انسان تھے۔خدا پر تو کل انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔یعنی ایسے تھے جو بعد میں آئے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تو کل اور ایمان اور یقین اور وفا اور محبت اور اخلاص میں وہ بہتوں سے آگے بڑھ گئے۔خلافت احمدیہ سے ان کو عشق تھا۔وفا کا تعلق تھا۔یعنی کسی بھی معاملے میں ذرہ بھر بھی اختلاف نہیں کرنا چاہتے تھے۔اگر ایم۔ٹی۔اے پر خطبہ وغیرہ آ رہا ہو تا یا کوئی پروگرام خلیفہ وقت کا آرہا ہوتا تو فوری طور پر بچوں کو چپ کر ا دیتے اور خاموشی سے سننے کا کہتے اور خود بھی سنتے۔نمازوں میں انہماک انتہا کو تھا۔تہجد گزار ، نوافل پڑھنے والے۔مجھے یاد ہے گزشتہ سال میں نے وہاں جرمنی میں ایک دن کی ایک شوری بلائی تھی۔جرمن زبان میں جماعت کی طرف سے ہی ایک رسالہ وہاں شائع ہو اتھا لیکن اس میں کچھ ایسا مواد تھا جس سے بعض لوگوں کو تحفظات تھے۔بہر حال اس میں اس بارے میں ڈسکشن ہو رہی تھی اور مجھے وہ تحفظات صحیح لگ رہے تھے۔حالا نکہ ہدایت اللہ صاحب کا اس رسالے میں بڑا رول تھا اور ان کی خواہش تھی اور ان کے کچھ ان کی بچیوں کے بھی مضامین بھی اس میں تھے۔بعض دوسروں نے تو اس رسالہ کے حق میں بول کے اس کے مضامین کو Justify کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ہدایت اللہ صاحب کھڑے ہوئے اور پہلی بات انہوں نے یہی کی کہ جن غلطیوں کی نشاند ہی آپ کر رہے ہیں بالکل صحیح ہے اور میں اس کے لئے معذرت چاہتا ہوں اور بہتر یہی ہے کہ اس پر غور کیا