خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 180
خطبات مسرور جلد نهم 180 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء پھر حضرت منشی عبد اللہ صاحب احمدی محلہ اسلام آباد، شہر سیالکوٹ۔ان کی بیعت 4 نومبر 1902ء کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیالکوٹ تشریف لائے تھے تو انہوں نے بیعت کی تھی۔تیرہ سال کی عمر تھی۔اور ایک خواب کے ذریعے انہوں نے بیعت کی۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی سے انہوں نے تعلیم بھی حاصل کی۔یہ لکھتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں اپنا دعویٰ کرنے کے بعد 4 نومبر 1902ء کو واپس قادیان تشریف لے گئے تو حضور نے ان لوگوں کے نام طلب فرمائے جنہوں نے سیالکوٹ کے احمدیوں کو تکالیف دی تھیں۔جب نام تحریر کئے گئے تو اُس کے چند دن بعد سیالکوٹ میں بہت غلیظ طاعون پھوٹ پڑی تو خدا تعالیٰ قادر و قہار نے چن چن کر اُن لوگوں کے خاندانوں کو تباہ کر دیا۔فَاعْتَبِرُوا يا أُولِي الْأَبْصَارِ پھر ان ہی ایام میں طاعون کے بارہ میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک مخالف تھا جب اس کو طاعون ہوئی تو اس نے حکیم حسام الدین صاحب کو بلایا۔آپ نے آکر اُس کو صرف اتنا کہا کہ یہ کالا ناگ ہے اس کے نزدیک مت جاؤ۔جب وہ قریب المرگ ہوا تو بیوی بوجہ محبت اُس سے چمٹ گئی۔اور در حقیقت وہ عورت موت کو مول لے رہی تھی۔اسی طرح اُس کی بچی نے کیا اور اس طرح سے اُس کے خاندان کے انیس افراد ہلاک ہو گئے۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے حضور سے دریافت کیا کہ حضور کیا کبھی آپ کو بھی ریا پیدا ہوا ہے، دکھاوا ، ریا پیدا ہوا ہے) حضور نے جواب دیا کہ اگر ایک آدمی جنگل میں مویشیوں کے درمیان نماز پڑھ رہا ہو تو کیا اس کے دل میں کبھی ریا پیدا ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا میر اتو یہ حال ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 3 روایت حضرت منشی عبد اللہ صاحب صفحہ نمبر 154 تا155 غیر مطبوعہ) حضرت محمد يحي صاحب ولد مولوی انوار حسین صاحب ساکن شاہ آباد ضلع ہر دوئی۔ان کی پیدائش 1894ء کی ہے۔1904ء میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی۔کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب مرحوم مولوی انوار حسین خان صاحب سکنہ شاہ آباد ضلع ہر دوئی، یوپی نے 1889ء میں لدھیانہ آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی اور اس سے کچھ عرصہ قبل سے ان کی خط و کتابت تھی اور وہ بیعت کا شرف حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لینے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو قادیان آنے سے روکا ہوا تھا۔جب حضور لدھیانہ اس غرض سے تشریف لے چلے تو والد صاحب کو اطلاع کر دی اور والد صاحب مرحوم اس کی تعمیل میں لدھیانہ آکر فیض یاب ہوئے۔والد صاحب دیوبند کے دستار بند مولوی تھے۔( باقاعدہ دیوبند کے سر ٹیفائیڈ مولوی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کا یہ واقعہ اکثر سنایا کرتے تھے کہ میں پہلی مرتبہ قادیان دارالامان 1892ء میں آیا تھا اور اس وقت مہمان گول کمرے میں ٹھہرا کرتے تھے۔میں بھی وہیں ٹھہر اتھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ہمارے ساتھ ہی کھانا تناول فرما یا کرتے تھے اور کھانا کھاتے کھاتے اُٹھ کر اندر تشریف لے جاتے اور کبھی چٹنی کبھی اچار لے کر آتے کہ آپ کو مرغوب ہو گا۔غرضیکہ کھاناخود بہت کم کھاتے اور مہمانوں کی خاطر زیادہ کیا کرتے تھے۔مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کی کثرت دیکھ کر