خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 177
خطبات مسرور جلد نهم 177 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء آج کل کے حالات میں بھی جو بعض ملکوں میں ہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بغاوت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پسند نہیں فرمایا بلکہ بغاوت کے خلاف جو مضمون آیا اُسے شائع فرمایا۔پھر لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ بعد نماز مغرب حضور شاہ نشین پر بیٹھے تھے۔کسی دوست نے عرض کی کہ تحصیل دار صاحب علاقہ صبح مینارہ کی تعمیر کے سلسلہ میں موقع دیکھنے کے لئے آرہے ہیں۔حضور علیہ السلام مینارة المسیح بنوانا چاہتے تھے ( اس کے بننے سے پہلے کا واقعہ ہے) مگر قادیان کے ہندو وغیرہ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔اور انہوں نے سرکار میں درخواست دی ہوئی تھی کہ مینارہ بنانے کی اجازت نہ دی جاوے۔حضور علیہ السلام نے تحصیل دار کی آمد کے متعلق سن کر فرمایا کہ بہت اچھا۔ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ اُن کا مناسب استقبال کریں اور انہیں موقع دکھاویں۔( جو مختلف احمدی لوگ ہیں وہ جائیں۔اچھی طرح تحصیلدار کا استقبال کریں۔اُس کو موقع دکھائیں۔پھر فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے کہ مینارہ ضرور تعمیر ہو گا اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تعمیر ہوا۔پھر لکھتے ہیں کہ حضور علیہ السلام عام طور پر محفل میں کس طرح بیٹھتے تھے یا کس طرح چلتے تھے۔اس بارہ میں کہتے ہیں کہ میں نے حضور کی محفل میں دیکھا ہے کہ حضور کی آنکھیں نیچے جھکی ہوئی ہوتی تھیں اور قریب بند معلوم ہوتی تھیں۔مگر جب کبھی حضور میری جانب نظر اُٹھا کر دیکھتے تھے تو میں برداشت نہیں کر سکتا تھا اور اپنی نظر نیچی کر لیتا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت منشی برکت علی صاحب صفحہ نمبر 142 تا144 غیر مطبوعہ ) لکھتے ہیں کہ غالباً آخری دنوں کا واقعہ ہے کہ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی معرفت عریضہ ارسال کیا اور ملاقات کی خواہش کی۔موصوف اُس وقت سترہ اٹھارہ سال کی عمر کے تھے۔حضور علیہ السلام نے اجازت مرحمت فرمائی اور اوپر کمرے میں بلوالیا۔میں نے حضور سے عرض کیا کہ میں غیر احمدی ہونے کی حالت میں دفتر میں ایک فنڈ میں شامل تھا جس کا نام Fortune Fund تھا۔پندرہ سولہ آدمی تھے۔آٹھ آنے ماہوار چندہ لیا جاتا تھا۔فراہم شدہ رقم سے لاٹری ڈالی جاتی تھی اور منافع تقسیم کر لیا جاتا تھا۔یہ کام احمدی ہونے کے بعد تک جاری رہا۔چنانچہ ایک دفعہ ہمارے نام تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کی لاٹری نکلی۔اور قریباً ساڑھے سات ہزار روپیہ میرے حصے میں آیا۔(تواب احمدی ہونے کے بعد پوچھ رہے ہیں کہ) مجھے خیال ہوا کہ کیا یہ امر جائز بھی ہے ؟ حضور سے دریافت کرنے پر جواب ملا کہ یہ جائز نہیں“۔( یہ لاٹری وغیرہ کا جو طریقہ ہے ) اس رقم کو اشاعت اسلام وغیرہ پر خرچ کر دینا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز حرام نہیں۔پھر انہوں نے اُس کو کچھ چندے میں دیا۔کچھ غرباء میں تقسیم کیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت منشی برکت علی صاحب صفحہ نمبر 146 تا147 غیر مطبوعہ ) پھر ایک روایت حضرت محمد اسماعیل صاحب ولد مکرم مولوی جمال الدین صاحب سکنہ سیکھواں ضلع گورداسپور کی ہے ، جنہوں نے 1904ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی۔پیدائشی احمدی تھے۔کہتے