خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 171

171 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مولوی فاضل ہو کر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے عہد میں ماریشس بھیجا گیا جو سات سال تبلیغ کر کے واصل باللہ ہو گیا اور خلیفہ ثانی کی زبان مبارک سے ہندوستان کا پہلا شہید کا خطاب پا گیا۔( حضرت مولوی عبید اللہ صاحب ماریشس میں مبلغ تھے۔وہیں اُن کی وفات ہوئی۔وہیں اُن کی تدفین ہوئی۔یہ اُن کا ذکر ہے جو اُن کے والد صاحب کر رہے ہیں)۔پھر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شنا گیا کہ آج گورداسپور میں کرم دین بھیں والے کے مقدمہ کی تاریخ ہے ، وہاں حضرت صاحب تشریف لے گئے ہیں اور یہ بھی سنا گیا کہ جو سرمایہ ہمارے گھر تھا وہ سب خرچ ہو گیا ہے۔میں یہ سُن کر گورداسپور پہنچا۔حضور صبح کی نماز کے بعد لیٹے ہوئے تھے اور ایک آدمی دبارہا تھا۔میں نے بھی جاتے ہی حضور کو دبانا شروع کر دیا۔چونکہ ان دنوں طاقتور تھا اور ہمیشہ سے اپنے سابق استادوں کی خدمت کا شرف حاصل تھا گویا مجھے مٹھی چاپی کرنے کی عادت تھی۔میں نے اسی طرح دبانا شروع کیا۔حضرت صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کو میرا دبانا محسوس ہوا۔فوراً منہ سے چادر اُٹھا کر میری طرف دیکھ کر بدیں الفاظ ارشاد فرمایا۔حافظ صاحب آپ راضی ہیں ؟ خوش ہیں ؟ کب آئے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ حضور ابھی آیا ہوں۔مگر لکھتے ہیں کہ جو بات ذکر کے لائق ہے اور جس کی خوشی میرے دل میں آج تک موجزن ہے وہ یہ ہے کہ میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے پہچانتے ہیں؟ فرمایا کیا حافظ جی ! میں آپ کو بھی نہیں پہچانتا ؟ یہ لفظ سنتے ہی میں خوشی سے چشم پر آب ہو گیا۔چونکہ حضور نے فرمایا ہوا تھا کہ جو مجھے پہچانتا ہے اور جس کو میں پہچانتا ہوں وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔پھر کہتے ہیں حال پرسی کی باتیں ہوتی رہیں۔تھوڑی دیر کے بعد کچھ اور آدمی بھی جمع ہو گئے اور سلسلہ گفتگو میں اتفاقاًیہ ذکر آگیا کہ چوہدری حاکم علی صاحب پنیاری نے ذکر کر دیا کہ حضور آج جمعہ ہے۔( چوہدری حاکم علی صاحب نو پنیار کے تھے) کہ حضور آج جمعہ ہے اور مولوی عبد الکریم صاحب نہیں آئے تو جمعہ کون پڑھائے گا۔تو حضور نے بلا تائل فرما دیا کہ یہ ہمارے حافظ صاحب جو ہیں، وزیر آبادی یہ پڑھائیں گے ( یہ ان کا ذکر ہے)۔میں یہ سُن کر کچھ بول نہ سکا۔ایسامر عوب ہو گیا کہ اس خیال سے کہ میں اس مامورِ خدا کے سامنے گناہگار آدمی ہوں، کیا کروں گا؟ اور کس طرح کھڑا ہوں گا؟ پھر دل میں خیال آیا کہ خیر ابھی جمعہ کا وقت دور ہے شاید اور کوئی شخص تجویز ہو جائے۔آخر جمعہ کا وقت آگیا اور صفیں باندھ کر نمازی بیٹھ گئے۔میں ایک صف میں ڈرتا ہوا شمال کی طرف بیٹھ گیا۔آخر اذان ہو گئی۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ حافظ صاحب کہاں ہیں ؟ آخر کسی شخص نے مجھے حاضر حضور کر دیا۔میں نے حضور کے کان مبارک کے قریب ہو کر آہستہ آواز سے عرض کیا کہ حضور ! میں گناہگار ہوں۔مجھے جرات نہیں کہ میں حضور کے آگے کھڑا ہو کر کچھ بیان کر سکوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔نہیں، آپ آگے ہو جائیں۔میں آپ کے لئے دعا کروں گا۔گویا مجھے مصلے پر کھڑا کر دیا۔آخر میں نے متوکلاً علی اللہ خطبہ شروع کر دیا اور سورۃ فرقان کی تَبْرَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيرا (الفرقان:2) کی چند آیتیں پڑھیں اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے توفیق دی، سنایا۔میں اُس وقت دیکھ رہا تھا کہ حضور علیہ السلام میرے لئے دعا